گلگت بلتستان کی اہمیت، سازشیں، اور راہ نجات/ تحریر: محمد حسن جمالی
پاکستان کی ترقی کے خواہاں افراد کے لئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کے رازوں کا عمیق مطالعہ کرناضروری ہے ـ ان کی کامیابی اور ترقی کے رازوں میں سرفہرست تعلیم کو اہمیت دینا ،جوانوں کی فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا،اداروں میں لائق وباصلاحیت افراد کا چناو کرکے بھرتی کرنا، ملک کے داخلی وبیرونی دشمن عناصر کے ناپاک عزائم سے آگاہ رہنا سمیت یہ راز بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے

کہ ترقی یافتہ ملکوں کے اقتدار اعلی کے مالکان اپنے ملک کے ان خطوں ،شہروں اور علاقوں کو خصوصی توجہ واہمیت دیتے ہیں جن سے ملک کی امنیتی ،سیاسی ، ثقافتی اور اقتصادی مفادات کا تعلق گہرا ہوتا ہے ـ چنانچہ جن ممالک نے ابھی تک اس راز کو کشف نہیں کیا ہے یا تجاہل عارفانہ کا مظاھرہ کرتے ہوئے اسے نظرانداز کیا ہوا ہے وہ علم و ٹیکنالوجی اور ایٹمی طاقت سے لیس ہونے کے باوجود آج تک ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہونے سے قاصر نظر آتے ہیں پاکستان کا شمار بھی انہی ملکوں میں ہوتا ہے ،کیونکہ پاکستانی حکمران اور ایوان اقتدار کے کرسی نشین افراد اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ گلگت بلتستان کا خطہ ہرلحاظ سے پاکستان کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہےـ ان کے لئے یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ بھارت پاکستان کا اصلی وازلی دشمن ہے اورجو خطہ اس ازلی دشمن کے خطرات کے لئے ڈھال بنا ہوا ہے وہ گلگت بلتستان ہےـ گرگل جنگ میں پاکستان کی حفاظت کے لئے اگر گلگت بلتستان کے جوانوں کی بے پناہ قربانیاں نہ ہوتیں، اگر اس معرکے میں گلگت بلتستان کے باسیوں کی مالی، جانی اور فکری توانائیوں کی فداکاریاں شامل نہ ہوتیں تو اس جنگ میں ہرگز پاکستان کو فتح نہ ملتی ـ گلگت بلتستان کے جوانوں نے اپنے لہو کی قربانی دے کر پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں مغلوب ہونے سے بچالیاـ اس کے علاوہ جہاں کہیں بھی پاکستان کی امنیت اور سالمیت خطرات کے کنویں کے دھانے پہنچی گلگت بلتستان کے آرمی جوان سینہ تان کر آگے بڑھے اور اپنی صلاحیتوں کا مظاھرہ کرتے ہوئے پاکستان کی امنیت کو خطرات کے کنویں میں گرنے سے بچالیا ـ توجہ رہے کہ کرگل جنگ میں پاکستان آرمی کی ویب سائیٹ ڈیفنس نے 350 جبکہ انڈیا ٹائمز نے 2900 این ایل آئی کے جوانوں کی شہادتوں کی خبر دی تھی اس جنگ میں پاکستان آرمی کے دوجوان نشان کا اعزازحیدر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے اس کے علاوہ این ایل آئی نے 1965ء کی جنگ میں 5 ستارہ جرائت، 8 تمغہء جرائت اور 25 امتیازی سند حاصل کر لیا۔ جبکہ 1971ء کی جنگ میں 2 ستارہ جرائت، 8تمغہ جرائت ، 2 امتیازی سند حاصل کیا گیا تھا۔ پاکستان کی سرزمین پر انسانیت کے دشمن طالبان کی سرکوبی کے لئے جب حکومت نے آپریشن شروع کروائی تو اس میں بھی این ایل آئی کا رول سب سے زیادہ رہاہےـ آپریشن المیزان ، آپریشن راہ راست اور آپریشن ضرب عضب سب میں گلگت بلتستان کے شیر دل جوانوں سے ہی خدمات لی گئی ۔ وطن عزیز پاکستان کی محبت میں دنیا کی بلند ترین محاز جنگ سیاچن میں گلگت بلتستان کے جوان خوش وخرم پاکستان کی حفاظت کے لئے الرٹ رہتے ہیں ، یہ بات بھی حائز اہمیت ہے کہ ”سیاچن” میں ہر سال پاک فوج کے جوانوں کی ایک قابل توجہ تعداد برفانی تودے تلے دب کر لاپتہ ہوجاتے ہیں اور کچھ طوفانوں کی نزر ہوکر غائب ہوتے ہیں تو بہت سارے زخمی یا معزور ہوکر ہمیشہ کے لئے گھروں میں محصور رہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی زندگی اجیرن بن کر رہ جاتی ہے ـ یاد رہے کہ سیاچن گلیشیئر پر گرمیوں میں بھی درجہ حرارت منفی دس کے قریب رہتا ہے۔جبکہ سردیوں میں منفی پچاس ڈگری تک جاپہنچتا ہے۔جس کے سبب یہاں سال بھر کسی قسم کی زندگی کے پنپنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔جو فوجی وہاں تعینات ہوتے ہیں ان کے لیے اس درجہ حرارت پر کھانا پینا ہی نہیں سانس لینا تک ایک انتہائی دشوار اور سخت ہوتا ہے ـ2012 میں سیاچن کے گیاری سیکٹر میں بھی 80 فٹ اونچا اور ایک کلومیٹر طویل برفانی تودہ گرنے سے 11 شہریوں سمیت پاک فوج کے 128 فوجی شہید ہو گئے تھے۔اگر وطن کی محبت ان کے دل میں نہ ہوتی تو کھبی بھی وہ سیاچن جیسے سرد مقامات پر حاضر رہنے کے لئے تیار نہ ہوتےـ گلگت بلتستان کی اہمیت کا دوسرا پہلو اس خطے کا آبی ،سیاحتی اور معدنیات کی دولت سے مالامال ہونا ہے، دریائے جہلم اور سندھ کے پانی سمیت پاکستان کے آبی ذخائر کا منبع گلگت بلتستان میں ہے ـ اس علاقے کی پہاڑیاں قیمتی پتھروں سے بھری پڑی ہیں ـ گلگت بلتستان کو چین اور بھارت کے لئے ایشیاء کاگیٹ وے ہونے کی حیثیت حاصل ہے اور اسے مجموعی طورپر دنیاکی چھت بھی کہلاتا ہےـ اس کی سرحدیں مغرب میں پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقے دیر،سوات،کوہستان اورکاغان ویلی سے ملتی ہیں ۔شمال مغرب میں واخان کی پٹی،شمال مشرق میں چین کاصوبہ سنکیانگ ،جنوب مغرب میں مقبوضہ کشمیر اور جنوب مشرق میں بھارت واقع ہے۔
اگر پاکستان کی سرزمین پر سیر وتفریح کے لئے خوبصورت ترین مثالی جگہوں کی تلاش کریں تو بغیر کسی مبالغے کے سب کی نظر گلگت بلتستان کی طرف جاتی ہے ـ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما میں دنیا بھر سے سیاح گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں، جہاں گرمیوں کے دوتین ماہ غیر ملکی اور ملک کے دور دراز شہروں سے آئے ہوئے سیاح مہمانوں کا رش رہتا ہے ـ یہ گلگت بلتستان کی اہمیت کے بارے میں ایک مجمل خاکہ ہے ـ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی اہمیت کے حامل خطے کو پاکستان کے حکمرانوں نے کتنی اہمیت دی ہے؟ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اس اہم خطے پر خاطر خواہ کوئی توجہ نہیں دی ـ پورے ۷۱ سالوں سے انہوں نے اس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیاـ یہاں تک کہ اس طویل عرصے میں گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرکے اسے جائز حقوق تک دینے کی انہیں توفیق نہیں ملی ـ حکمرانوں کی یہ بدسلوکی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ انہیں وطن عزیز کی ترقی کی کوئی فکر نہیں ـ وہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے زمرے میں دیکھنے کے حوالے سے خاص دلچسپی نہیں رکھتے ہیں ـ پاکستان کی ترقی کا نعرہ ان کی زبان کی حد محدود ہے وہ عملی طور پر پاکستان کی ترقی کے خواہاں نہیں ـ یہ بات بھی کسی پر مخفی نہیں رہنی چاہئے کہ گلگت بلتستان کو حقوق سے محروم رکھنے میں جہاں پاکستانی حکمران مجرم ہیں وہیں اس محرومیت میں خود اس خطے کے باسیوں کی نااتفاقی ، مایوسی ، احساس کمتری ،عدم احساس مسؤلیت ،غفلت ،خواب اور دوسروں کے مہرے بننا وغیرہ کا بھی بڑا عمل دخل رہا ہے ـ آج تک اس اہم ایشو پر گلگت بلتستان کے پورے عوام اور خواص نے متحد ومتفق ہوکر آواز بلند نہیں کی بلکہ اس حوالے سے ہمیشہ ایک گروہ ہی میدان میں سرگرم رہا ہے جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ـ
اگر ہم خطہ امن گلگت بلتستان کے خلاف ہونے والی بیرونی اور داخلی خفیہ سازشوں کی فہرست بنانا چاہیں تو سازشوں ،ہتگھنڈوں اور پریپیگنڈوں کی ایک لمبی فہرست بن جاتی ہے ـ گلگت بلتستان کی اہمیت کا اندازہ ہمارے حکمرانوں کو تو نہیں ہوا لیکن اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں نے اس خطے کی اہمیت کو صحیح معنوں میں درک کرلیا ہے ـ یہی وجہ ہے کہ وہ امن کا مثالی خطہ گلگت بلتستان کی امنیت کو سبوتاژ کرکے بدامنی کو اس معاشرے پر حاکم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ـ جس کی ایک مثال گلگت بلتستان کے شہروں ، علاقوں اور نالہ جات میں این جی اوز کی فعالیتوں کا مسلسل بڑھتا ہوا رجحان ہے ـ ظاہری طور پر یہ تنظیمیں خدمت خلق کے نام سے کام کرتی ہیں ، لیکن پس پردہ ان کے مقاصد بہت خطرناک ہوتے ہیں ـ غزالہ عزیز نے ۲۰جولائی ۲۰۱۷ کو این جی اوز مافیا کے مقاصد کے عنوان سے جسارت نیوز میں ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بظاھر فلاحی اور تعلیم کے لئے کام کرنے والی این جی اوز طلبہ و طالبات کو بھاری معاوضے کا لالچ دیتی ہیں، بعد میں بلیک میل کرتی ہیں اور تو اور خواتین اور بچوں کو بیرون ملک اسمگل کیے جانے کے علاوہ ان کی خریدوفروخت بھی کرتی ہیں۔ یوں این جی اوز کے مالکان اور نمائندے کروڑ پتی اور ارب پتی بن جاتے ہیں ـ آزاد کشمیر کی چھوٹی سی ریاست میں تقریباً ساڑھے چھ سو این جی اوز کام کررہی ہیں۔ بلوچستان میں ساڑھے سولہ سو این جی اوز رجسٹریشن کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبے میں مصروف عمل ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ بعض تنظیمیں سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد پھیلانے کے لیے بھی فنڈنگ میں ملوث ہیں۔ اپریل 2017ء میں اس حوالے سے تحقیقات کی گئی تھیں اور گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں، اس کے علاوہ غیر ملکی دباو کے نتیجے میں مخصوص نظریات کی حامل این جی اوز کے ذریعے ایسا تعلیمی نصاب تعلیمی اداروں میں نافذ کرنے کی کوشش ہورہی ہے جو آزادی کے نام پر انتشار اور اسلام سے بیزاری پیدا کرنے کا باعث ہو۔2013ء میں خاص طور سے تعلیمی نصاب میں جنسی تعلیم کو متعارف کروانے کے لیے حکومت کے تحت منصوبہ بنایا گیا، اس کام میں اقوام متحدہ کے اداروں نے بڑی مستعدی دکھائی۔، سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے منظور شدہ نصاب میں چھٹی سے دسویں تک بچوں اور بچیوں کو یہ پڑھایا جارہا ہے کہ ان کا کسی بھی (جاننے والا یا اجنبی) سے جنسی تعلق کس نوعیت کا ہونا چاہیے۔لاہور ہائی کورٹ نے کچھ عرصے قبل ایک این جی او کو عدالت میں طلب کیا کیوں کہ اُس کی طرف سے گجرانوالا کے سرکاری اسکولوں میں تقسیم کی گئی کتابوں میں تعلیم دی جارہی تھی کہ لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ اور لڑکوں کو لڑکیوں کے ساتھ کیسے دوستی کرنی چاہیے۔ یہ چیزیں ہیں این جی اوز کے اہداف، گلگت بلتستان میں یہ تنظیمیں بڑی سرعت سے شب وروز ایک کرکے کام کررہی ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ، ہمارے ذمہ داران خواب خرگوش میں مست ہیں ـ گلگت بلتستان میں ہونے والی سازشوں میں سے ایک اس خطے کی ثقافت سے مربوط امور سے دینی رنگ کمزور کرنے کی کوشش ہے ـ ہمارے دشمن یہ جان چکے ہیں کہ گلگت بلتستان ایک مذہبی خطہ ہے جس میں شروع سے آج تک مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑے پیار ومحبت سے زندگی بسر کرتے آرہے ہیں، محبت سے بھرپور یہ معاشرت دشمنوں کے لئے گلے کی ہڈی ثابت ہوئی، چنانچہ گزشتہ سالوں میں کئی مرتبہ دشمنوں نے گلگت بلتستان کے معاشرے پر حاکم امن اور بھائی چارگی کی فضا کو مذہبی اور لسانی تعصب کی آگ بڑھاکر آلودہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہیں ہر دفعہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ، اسی طرح اس خطے کے دشمن اس کے عوام اور علماء نیز دینی مدارس میں پڑھنے والے اور کالج یونیورسٹی کے طلباء کے درمیان جدائی اور دوریاں پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کرنے کی مزموم کوششوں میں مصروف ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اس ناپاک ہدف میں کامیابی ملتی دکھائی دے رہی ہے ، عوام روز بروز علماء سے متنفر ہورہے ہیں ، یونیورسٹی اور مدارس کے طلبا میں فاصلہ بڑھتاجارہا ہے ، مذہب اور دین سے عوام کا رجحان کمزور ہوتا جارہا ہے ، معاشرے میں اسلامی تعلیمات کی اہمیت گھٹتی جارہی ہے، لوگ مادیات کی طرف ذیادہ راغب اور معنویات کی جانب توجہ دینے میں ان کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے ـ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے دشمن، سادہ لوگ افراد کے ذہنوں میں دین اور سیاست جدا ہونے کی غلط فکر ڈال کر انہیں حقائق سے دور رکھنے کی سازش میں مگن ہیں ـ روشن فکری اور آذادی کے نام سے عورتوں کو بے حیائی اور فحاشیت کی طرف لے جانے کی وسیع پیمانے پر تبلیغ ہورہی ہےـ یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں پہلا سوال گلگت بلتستان کے حقوق کے حصول سے مربوط ہے اور دوسرا سوال خطے میں ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے سے متعلق ہے ـ پہلے والے سوال کی کیفیت یوں ہوگی کہ کیا اہلیان گلگت بلتستان پاکستانی حکمرانوں سے اپنے حقوق حاصل کرسکتے ہیں ؟کیا خطہ گلگت بلتستان قومی دھارے میں شامل ہوسکتا ہے؟ اگر ہوسکتا ہے تو کیسے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں ہونے والی سازشوں
کو ناکام کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے باسی پاکستان کے حکمرانوں سے اپنے حقوق بالکل لے سکتے ہیں، کیونکہ یہ ان کا مسلمہ حق ہے ، جس سے اہلیان گلگت بلتستان کو پاکستانی حکمرانوں نے ۷۱ سالوں سے محروم کررکھا ہے، جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے اور حقوق کے حصول کا منطقی راستہ یہ ہے کہ سب سے پہلے خواص بیدار ہوجائیں ، وہ اس مسئلے کی اہمیت کو درک کریں، وہ آپس میں ایک دوسرے سے مربوط رہیں اور پڑھے لکھے افراد باہمی مشورے سے عوام کو مسئلہ حقوق کے حوالے سے شعور دیں ،انہیں بیدار کریں، پھرخواص اور عوام اپنی اجتماعی طاقت سے گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں ، یقین کیجئے اجتماعی شعوری طاقت میں بڑا وزن ہوتا ہے ، جس کا اثر بہت جلد نمایاں ہوتا ہے ـ اسی طرح سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے بھی سب سے پہلے مذہبی رہنماؤں سمیت پڑھے لکھے طبقے کو میدان میں آنا ہوگا ـ انہیں سازشوں کی عواقب بد کی شناخت حاصل کرکے ان سے عوام کو باخبر کرانا ہوگاـ دینی مدارس اور یونیورسٹی کے طلباء کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ دونوں تحصیل کی راہ پر گامزن ہیں ـ دونوں کمال کی طرف رواں دواں ہیں ـ وہ ایک ہیں اور ایک رہیں گے ـجب علم کے متلاشیوں میں سے ہر ایک اس سوچ کو اپنے ذھن مستحکم کرکے آگے بڑھے گا بلاتردید وہ ملکر دشمنوں کے تمام ہتھگنڈوں، پریپیگنڈوں اور سازشوں کو بڑی آسانی سے خاک میں ملاسکتے ہیں بشرطیکہ وہ علمی دولت سے مالامال ہونے کے ساتھ بصیرت کے بھی مالک بن جائیں ـ
پاکستان زندہ باد
گلگت بلتستان پائندہ باد
این مطلب بدون برچسب می باشد.
دیدگاهتان را بنویسید