ہنزہ اور نگر کے ہزاروں طلبہ ،بغیر کتابوں کے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور
ضلع ہنزہ اور نگر کے ہزاروں طلباء و طالبات بغیر کتابوں کے گزشتہ ماہ کے ابتدا سے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا کیا ہو ا وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ ۔۔۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ حافیظ الرحمن کاسرکاری سکولوں کے طلباء سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ […]

ضلع ہنزہ اور نگر کے ہزاروں طلباء و طالبات بغیر کتابوں کے گزشتہ ماہ کے ابتدا سے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا کیا ہو ا وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ ۔۔۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ حافیظ الرحمن کاسرکاری سکولوں کے طلباء سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ ہو سکا نہ صرف ضلع ہنزہ اور نگر کے طلباء بلکہ گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کے سرکار ی سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ بغیر کتابوں کے سکول جانے پر مجبور ہے کیونکہ وزیر اعلی صاحب نے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے لئے مفت کتابوں کا اعلان کیا تھا جس کے لئے طلبہ منتظر ہیں جبکہ دوسری جانب نصابی کا سال نو شروع گزشتہ ماہ 10فرروی سے شروع ہو چکا ہے مگر بغیر کتابوں کے طلبہ سکولوں میں تعلیم دینے پر مجبور ہیں۔ اس موقع پر طلباء اور اساتذہ نے گزشتہ روز میڈ یا کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ گزشتہ دو سے تین ہفتوں سے طلباء بغیر کتابوں کے سکولوں میںاتے اور جاتے ہے جس کی وجہ سے نہ صرف والدین پر یشان ہے بلکہ طلباء بھی اس سے بہت پریشان ہے کیونکہ رواں سال کی نصابی سرگرمی تاخیر سے شروع ہو رہا ہیں جس کی وجہ سے دیگر سکولوں میں زیر تعلیم طلباء کے مقابلے میں ہیں تعلیمی میدان میں دشواری کا سامان کر نا پڑے گا۔ والدین ، طلبہ اور سکول اساتذہ نے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حافیظ الرحمن اور محکمہ تعلیم گلگت بلتستان سے پر زورمطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سے میں چلنے والی نصابی سرگرمیوں کی کتابیں طلبہ کو دیا جائے بصورت دیگر آئندہ انے والے نونہالوں کا مستقبل خطرے میں پڑنے کا امکان ہو چکا ہیں۔
این مطلب بدون برچسب می باشد.
دیدگاهتان را بنویسید