اسلام کا نظریہ تعلیم اور مسلمان

اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد صلى الله عليه وسلم تک ہزاروں نبیوں و رسولوں کو اپنی کتاب اور اپنے احکام سے نوازااور انہیں انسانیت کی ہدایت کے لیے دنیا میں بھیجا۔ باوجود اس کے دنیا میں تہذیب وتمدن اور علم وفن کی ترقی نہیں ہوئی اور وہ جہالت ہی میں مبتلا رہی۔ان کتابوں نے اور نہ ان کے حاملین نے یہ دعویٰ کیا کہ ان میں دنیا کی تمام چیزوں کو جمع کردیاگیا ہے۔ انبیاءِ سابقین پر نازل کتاب اور ان کی تعلیمات کو مخصوص خطہ ،محدود افراداور ایک خاص عہد تک کے لیے موثر قرار دیتے ہوے علامہ سید سلیمان ندوی رحمة الله عليه لکھتے ہیں

:”تورات کے تمام انبیاء ملک عراق یا ملک شام یا ملک مصر سے آگے نہیں بڑھے،یعنی اپنے وطن میں جہاں وہ رہتے تھے محدود رہے اور اپنی نسل و قوم کے سوا غیروں کو انہوں نے آواز نہیں دی۔ زیادہ تر ان کی کوششوں کا مرکز صرف اسرائیل کا خاندان رہا۔عرب کے قدیم انبیاء بھی اپنی اپنی قوموں کے ذمہ دار تھے،وہ باہر نہیں گئے۔حضرت عیسیٰ کے مکتب میں بھی غیر اسرائیلی طالب علم کا وجود نہ تھا،وہ صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیوں کی تلاش میں تھے(متی،باب:۷،آیت:۲۴) اور غیروں کو تعلیم دے کر وہ بچوں کی روٹی کتوں کے آگے ڈالنا پسند نہیں کرتے تھے۔ (انجیل)

چوہدری نثارنے دہشتگردوں کی حمایت نہ چھوڑی تو مخالفت نہیں دشمنی کرینگے، مولابخش چانڈیو

وزیراعظم نے پاناما کے معاملے میں جھوٹ بولا ہے لہذا وہ ذمہ داری قبول کریں اور مستعفی ہوجائیں۔  کراچی: مشیراطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار دہشت گردوں کے حمایتی اور وکیل ہیں اس لیے ان سے مخالفت ہے جو دشمنی میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات […]

ہم اپنے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے نہیں دیںگے،امجد حسین ایڈووکیٹ

گلگت(رستم علی سے) پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حق ملکیت تحریک کی حفیظ الرحمن اور ایک اور رکن اسمبلی کے علاوہ باقی تمام ممبران اسمبلی حمایت کرتے ہیں وزیر اعلیٰ مزارع (دہقان)تھے اور رہیںگے وہ کبھی اس خطے کے مالک نہیں بن سکتے اس خطے کے مالک ہم ہیں اور رہیںگے۔پیر کے روز پیپلزپارٹی کے کیمپ آفس میں ایم کیو ایم کے عہدیداروںکی پیپلزپارٹی میں شمولیت کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حق ملکیت و حق حاکمیت تحریک کی بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ نے مخالفت نہیں کی مگر چار ماہ بعد وزیر اعلیٰ خود سامنے آگئے اور اس اہم مسلے کو بھی فرقہ ورانہ رنگ دینے کی کوشش کی مگر حفیظ الرحمن چاہتے ہوئے بھی اس ایشو کو فرقہ ورانہ رنگ نہیں دے سکتے کیونکہ یہ گلگت بلتستان میں بسنے والے تمام لوگوںکا مسلہ ہے