صلح امام حسن (ع) کیوں؟ صلح کے ثمرات
صلح امام حسن (ع) کیوں؟ صلح کے ثمرات
صلح کے دلائل؛ امام حسن علیہ السلام کی صلح نہایت مفید اور پرثمر تھی اور ہم جانتے ہیں کہ جس مصالحت سے اہداف حاصل ہوجائیں وہ مصالحت اس جنگ سے بہتر ہے جس سے مقاصد کا حصول پردہ ابہام میں ہو یا پھر اس سے نقصان کے سوا کچھ بھی نہ مل رہا ہو؛ چنانچہ امام حسن علیہ السلام آپ (ع) کی فتح ہے۔
ترجمہ وتکمیل: ف۔ح۔مہدوی
صلح امام حسن (ع) کیوں؟ صلح کے ثمرات
مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی/تحریر: طاہر عبداللہ
مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی
آپ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور تحریک جعفریہ کے بانی علماء میں سے تھے، جبکہ امامیہ آرگنائزیشن، وفاق علماء شیعہ پاکستان اور دیگر قومی تنظیموں کو محسنِ ملت کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ نے قائدینِ ملتِ جعفریہ مفتی جعفر حسین مرحوم، علامہ شہید عارف حسین الحسینی اور علامہ سید ساجد علی نقوی کے اِنتخاب میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کے نامور، ممتاز اور سرفراز شاگردوں میں سے آیت اللہ حافظ بشیر حسین نجفی وہ قابلِ قدر شخصیت ہیں، جو عراق میں مرجع اور مجتہد کی پوزیشن پر فائز ہیں۔ آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی وہ معزز شخصیت اور عظیم ہستی ہیں، جو آپ کی وفات سے لے کر اب تک جامعۃ المنتظر لاہور کے پرنسپل آرہے ہیں۔ مفسر قرآن اور اسوہ سکول سسٹم کے بانی شیخ محسن علی نجفی بھی آپ مرحوم کے عظیم شاگردوں میں سے ایک ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
كُنْ فِي الْفِتْنَةِ كَابْنِ اللَّبُونِ، لاَ ظَهْرٌ فَيُرْكَبَ، وَلاَ ضَرْعٌ فَيُحْلَبَ
نہج البلاغہ صدائے عدالت درس نمبر 1
اثر: محمد سجاد شاکری
حصہ اول: شرح الفاظ
قَال علي (علیہ السلام):
كُنْ فِي الْفِتْنَةِ كَابْنِ اللَّبُونِ، لاَ ظَهْرٌ فَيُرْكَبَ، وَلاَ ضَرْعٌ فَيُحْلَبَ
1۔ الْفِتْنَة:
یہ کلمہ اصل میں "فتن” سے مشتق ہوا ہے۔ جس کے معنی سونے کو آگ کی بھٹی میں ڈال کر پگلا کر خالص سونے کو اشیائے اضافی سے الگ کرنے کے ہیں۔(مفردات راغب/ 371)
