تازہ ترین

امام مہدی (عج) کا مکہ سے ظہور حتمی ہے، سعودی حکمرانوں کے توہمات اللہ کی قضا و قدر کو متأثر نہیں کرسکتے، حسن نصراللہ

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں سعودی نائب ولی عہد، وزیر دفاع محمد بن سلمان آل سعود کی جانب سے حال ہی میں ہونے والی ہرزہ سرائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ مذہب اہل […]

شئیر
28 بازدید
مطالب کا کوڈ: 2249

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں سعودی نائب ولی عہد، وزیر دفاع محمد بن سلمان آل سعود کی جانب سے حال ہی میں ہونے والی ہرزہ سرائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ مذہب اہل بیت (ع) سے مخصوص نہيں ہے بلکہ اس مسئلہ پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اہل بیت علیہم السلام کی ذریت سے ہیں اور بہر صورت مکہ مکرمہ سے ظہور فرمائیں گے۔ واضح رہے کہ محمد بن سلمان نے چند روز قبل حسب معمول ایران پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران عالم اسلام میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے درپے ہے اور حضرت امام مہدی (عج) کی عالمگیر حکومت کے پیش نظر وہ ساری دنیا پر اپنا راج جما کر اسے انکے ظہور کے لئے تیار کرنا چاہتا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی حکمرانوں کے اس قسم کے توہمات کسی طور بھی اللہ کی قضا و قدر کو متأثر نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ بن سلمان اپنے حالیہ انٹرویو میں بےشمار خطاؤں کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایران کے بارے میں ان کے موقف کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ ایران کے نام کے کسی عام ملک کے دشمن ہیں، بلکہ وہ ایسے ایران کے دشمن ہیں، جو امام مہدی صاحب الزمان کے ظہور کا انتظار کر رہا ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ میں بن سلمان آل سعود سے کہتا ہوں کہ “امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا عقیدہ مسلمانوں کے عقائد کے عین مطابق ہے، امام مہدی بہر صورت مکہ مکرمہ سے ظہور فرمائیں گے اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امام (ع) کا ظہور بیروت، تہران یا دمشق سے نہیں ہوگا۔ انہوں نے سعودی سلطنت کے کئی بڑے عہدوں پر قابض ہونے کے باوجود محمد بن سلمان کی نادانی اور لاعلمی پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو کچھ دینی معلومات فراہم کئے جانے اور یہ بتائے جانے کی ضرورت ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موضوع پر تمام مسلمانوں کے درمیان اجماع پایا جاتا ہے اور یہ موضوع صرف شیعیان اہل بیت سے مخصوص نہیں ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ویسے تو بن سلمان کا دعویٰ ہے کہ ایران کے ساتھ ان کا اور اس کے خاندان کا اختلاف محض سیاسی اختلاف ہے، مگر یہ دعویٰ بےجا اور بےبنیاد ہے اور ایران کے ساتھ ان کا جھگڑا مذہبی اور اعتقادی بنیادوں پر ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ جب امام آئیں گے تو نہ کوئی ظالم و جابر حکمران رہے گا، نہ کوئی فاسد و بدعنوان حکمران باقی بچے گا، بلکہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور بن سلمان تم یہ جان لو کہ نہ تم اور نہ تمہارے باپ دادا، اس حقیقت کو تبدیل کرنے پر ہرگز قادر نہیں ہیں۔

این مطلب بدون برچسب می باشد.

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *