تازہ ترین

اسلام آباد نے بھارتی جاسوس سے متعلق نئی دہلی کا بیان مسترد کردیا

 پاکستان نے کلبھوشن یادھو سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مسترد کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ باہمی قونصلر رسائی معاہدے پر موثر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ 2008 کا معاہدہ قیدیوں کی فہرستوں کے سال میں دو مرتبہ تبادلہ کا پابند کرتا ہے […]

شئیر
25 بازدید
مطالب کا کوڈ: 2484

 پاکستان نے کلبھوشن یادھو سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مسترد کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ باہمی قونصلر رسائی معاہدے پر موثر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ 2008 کا معاہدہ قیدیوں کی فہرستوں کے سال میں دو مرتبہ تبادلہ کا پابند کرتا ہے لیکن کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر اور را کا ایجنٹ ہے، کلبھوشن کو را نے دہشت گردی اور جاسوسی کے لئے پاکستان بھیجا تھا اس لیے کلبھوشن یادیو کے معاملے کو سول قیدیوں کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا، پاکستان قونصلر رسائی کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کررہا ہے لیکن انسانی ہمدردی کے معاملات سیاسی حالات کے باعث یرغمال نہیں بنائے جا سکتے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یکم جولائی کو دونوں ممالک کی جیلوں میں بند دوسرے کے قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا، پاکستان نے سزا پوری کرنے والے پانچ بھارتی قیدیوں کو22 جون کو وطن واپس بھیج دیا اور سزا پوری کرنے والے 20 پاکستانی سول قیدی تاحال بھارت سے واپسی کے منتظر ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان کو107 ماہی گیروں اور85 شہریوں تک قونصلر رسائی تاحال نہیں دی گئی، جولائی 2016 میں غلطی سے سرحد پار کرنے والے دو کمسن پاکستانیوں کو سال بعد واپس کیا گیا جب کہ پاکستانی مریضوں کے میڈیکل ویزوں پر شرائط عائد کرنا بھارت کے انسانی ہمدردی کے دعووں کی نفی ہے۔

این مطلب بدون برچسب می باشد.

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *