انقلاب اسلامی ایران کے دنیا پہ اثرات/تحریر مدیحہ بتول
مقالہ بمناسبت عشرہ فجر انقلاب اسلامی ایران
زیر اہتمام: جامعہ روحانیت بلتستان
تمھید
۱۱فروری 1979ء کا دن دنیائے اسلام کیلئے ہمیشہ ناقابل فراموش و یادگار رہیگا، اس لئے کہ اس دن پاکستان کے برادر ہمسایہ ملک ایران میں اڑھائی ہزار سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور ملک میں امام خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب برپا ہوا، ایسا اسلامی انقلاب جسے برپا کرنے کیلئے اس سے قبل کئی اسلامی ممالک میں طویل جدوجہد کی جا رہی تھی۔

مصر میں اخوان المسلمون، پاکستان میں جماعت اسلامی اور دیگر کئی ممالک میں اس کا خواب دیکھنے والے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہے ،جوانیاں لٹاتے رہے، جیلوں میں جاتے رہے اور پھانسیوں کا پھندہ گلے لگاتے رہے۔ ایسا اسلامی انقلاب جس نے دنیا کا جغرافیہ و سیاست کو تبدیل کر دیا، جس نے مشرق و مغرب کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا، ایسا اسلامی انقلاب جس نے مایوس اور مرجھائے چہروں کو امید کی کرن دکھائی، جس نے سیاست عالم کے انداز ہی بدل ڈالے، جس نے استعمار جہاں کی سوچ و فکر اور سیاست پر کاری ضربیں لگائیں، ایسا انقلاب جو واقعی نبوی منھج اور علوی سنتوں کا احیاء کرنے والا تھا، ایسا انقلاب جو ایک سید، ایک مجتھد، ایک عالم، یک مبارز، ایک ولی خدا، ایک مجاھد، ایک عوام دوست، سیاست عالم سے آگاہ دینی و مذہبی رہنما کی قیادت و رہبری میں آیا۔
ہو جہاں پر جلوہ افگن ہر طرف نور کتاب
مرد مومن کا ہدف ہے جہان انقلاب
انقلاب اسلامی ایران ۲۰ویں صدی میں پیش آنے والے واقعات میں سے اہم ترین واقعہ ہے۔اس دنیا میں کہ جہاں مسلسل ہونے والی تبدیلیاں معاشرے کے حدود کو پار کر کے آتی ہیں اور اقوام کی تقدیر کو بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ انقلاب اسلامی ایران ایک ایسی تبدیلی تھی کہ جس نے نہ صرف ایک ملت اور قوم کے سیاسی نظام اور اداروں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اس نور کی تابش نے پوری دنیا پہ اپنا اثر دکھایا اور اسکا دامن ایک قوم سے بہت وسیع تھا۔
انقلاب اسلامی ایران نے تمام مشرقی اور مغربی سیاسی نظریات اور پالیسیوں کو حتی براعظم ایشیا اور مشرق وسطی کے تمام تحریکوں اور سیاسی جماعتوں کو چیلنج کیا اور اسی لئے دینا میں بہت سی حکومتوں کے لئے مشکل ساز ثابت ہوا۔
انقلاب اسلامی ایران کے اہم ترین اثرات
انقلاب اسلامی ایران اس وقت کامیاب ہوا جب پوری دنیا پر تقریبا ۴ صدیوں سے مغرب بلا شرکت غیرے حاکم تھا اور اس سے مقابلہ کی کسی میں ہمت نہیں تھی اس نظام میں جو بھی فکری عملی اور ثقافتی تبدیلیاں ہوتیں یا نئے نظریات پیش ہوتے ،سب مغرب سے تائید شدہ ہوتے اور اتنے عرصے سے مغربی نظام کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیاحتی ۱۹۴۹ میں آنے والا چین کا انقلاب یا ۱۹۵۹ میں کیوبا کا انقلاب بھی مغربی افکار کا حامل تھا جبکہ اسلامی انقلاب نے ایک نئی تبدیلی کے ساتھ مغربی نظام کے مختلف پہلووں کو چیلنج کیا ۔
انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی نے دنیا پہ گہرے اثرات مرتب کئے ان میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:
۱: ایک جامع اور جھانی مذہب کے عنوان سے اسلام کا احیا
انقلاب اسلامی کی اہم ترین تاثیر اسلامی تعلیمات اور اقدار کا احیا تھا در حقیقت انقلاب ایران کی کامیابی نے دنیا کو دکھایا کہ دین اسلام وقت گزرنے اور ماڈرنایزیشن کے فروغ کے ساتھ نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوا بلکہ انسانیت کو ظلم و ستم سے نجات دینے کے لئے ہمیشہ تک ایک کامل نظام کی صورت میں موجود ہے۔
اس سوچ نے لوگوں کو بالخصوص جوانوں کو، جو تیزی سے مادیت کی طرف بڑھ رہے تھے، معنویات اور اعتقادات دینی کی طاقت دکھائی۔اور لوگوں نے انقلاب کی کامیابی کے بعد قرآن کی آیات کا ایک نیا رخ دیکھا۔
۲:مغربی نظام کو چیلنج کرنا
انقلاب اسلامی ایران نے نہ صرف مغربی نظام کی پیروی نہیں کی بلکہ اسکے خلاف قیام کیا اور ایک نیا اسلامی نظام دنیا کے سامنے پیش کیا۔
۳۔عالمی تنازعات میں طرفین کی تبدیلی
پہلے عموما عالمی تنازعات حکومتوں اور یونینز کے درمیان ہوتے تھے لیکن انقلاب اسلامی نے اس نظریہ کو بدلا اور نئے نظریہ کے مطابق اساسی تنازعات حکومتوں کے درمیان انکے مفادات کے لئے نہیں بلکہ عالمی تنازعات میں طرفین صاحب قدرت ظالم لوگ اور مظلوم لوگ ہیں اس نظریہ نے جغرافیائی حدود،قومیت،زبان حتی مذھب کو بھی ان تنازعات سے نکال دیا اور تمام مستضعفین جھان کو جنگ کے ایک طرف کے عنوان سے دنیا کے سامنے متعارف کروایا۔
۴:دنیا کے مستضفین کا مستکبرین کے خلاف قیام
چونکہ انقلاب اسلامی ایران نے مظلوم لوگوں کوعالمی جنگ میں ایک طاقت کے عنوان سے شامل کیا تھا لہذا دنیا بھر میں مظلوموں نے انفرادی اور اجتماعی شکل میں ظالموں کے خلاف کھل کے بولنا شروع کیا۔اسکی ایک مثال حزب اللہ ہے۔
۵:سیاسی اسلام کا تعارف
انقلاب اسلامی ایران نے ماڈرن تاریخ میں پہلی دفعہ اسلام کے سیاسی نظریہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور لوگوں کے سامنے واضح کیا کہ دین سیاست سے جدا نہیں ہے بلکہ ایسی سیاست جو دین کے ہمراہ ہو ایک مثالی سیاست ہے جسکے نتیجے میں ایک بہترین مثالی حکومت تشکیل پاتی ہے۔
۶:مغربی نظریہ کی نفی
جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ مغربی نظام ایک طویل مدت سے پوری دنیا میں رائج تھا انقلاب نے نہ صرف اسے چیلنج کیا بلکہ اسکی نفی کی اور اسکے مقابلے میں نہ کہا اور مغربی فکر ،ثقافت اور نظریات کا مقابلہ کیا۔
۷: عالم اسلام کا ایک عالمی طاقت کے عنوان سے تعارف
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ساتھ ہی بہت سی مسلمان ملتیں بیدار ہوئیں اور چونکہ انکے اقدار اور اھداف مشترک اور مفادات ہم آھنگ تھے انکے درمیان اتحاد وجود میں آیا اور جھان اسلام دنیا کے سامنے ایک طاقت بن کر ابھرا۔
۸:بین الاقوامی نظام میں طاقت کے معیار کی تبدیلی
عموما جب ممالک کی قدرت اور طاقت کے لحاظ سے تقسیم بندی ہوتی ہے تو معیارات مادی ہوتے ہیں مثلا ایک ملک کو قدرت مند ثابت کرنے کے لئے اسکے اقتصادی،جغرافیائی،سیاسی اور آبادی کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔
لیکن پوری دنیا نے دیکھا کہ چند تُھی دست لوگوں نے ایک مسلح حکومت جسکے پیچھے دنیا کی بڑی طاقتوں کا ہاتھ تھا،شکست دی۔اسی طرح حزب اللہ جس نے لبنان میں دنیا کے ۵ بڑی طاقتوں پر غلبہ حاصل کیا ۔ ان فتوحات کو دیکھ کر یہ طاقتیں انگشت بدنداں رہ گئی اور دنیا پہ یہ ثابت ہو گیا کہ ایمان،جھاد اور شہادت سب سے بڑی طاقت ہے۔
۹:معنویت،اخلاق اور عدالت کا بین الاقوامی نظام میں تعارف
بین الاقوامی نظام میں ملتوں کے منافع اور کامیابی کے لئے فقط مادی عناصر موجود تھے انقلاب اسلامی ایران کہ جسکی بنیاد دین اسلام ہے، نے اس نظام میں ۳ نئے عناصر کو اساسی عناصر کے عنوان سے متعارف کروایا جن میں معنویت،اخلاق اور عدالت شامل ہیں۔
۱۰:تمدن اسلامی کے شان و شوکت کی واپسی
قرون وسطی کی تاریخ اسلامی تمدن کی عظمت کی گواہ ہے لیکن مغرب کی ہمیشہ کوشش رہی کہ اسکی یاد کو لوگوں کے ذہن سے نکال دیا جائے لیکن اسلامی انقلاب اسلامی نے حتی الامکان کوشش کی که لوگوں کو اسلام کا وہ بھولا ہوا رخ دکھائے جس میں شجاعت،دلیری ، عدالت اور ایمان اہم عناصر ہیں۔
۱۱:انقلاب کے مفہوم کی تبدیلی:
اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے مفکرین کا نظریہ یہ تھا کہ انقلاب کی وجہ حکومت کا کمزور ہونا ہے نہ کہ انقلابیوں کا طاقتور ہونا اور انہیں یہ بات ناممکن لگتی تھی کہ ایک مضبوط حکومت کے خلاف قیام کامیاب ہو۔لیکن انقلاب اسلامی نے یہ بات ثابت کی کہ ایک مضبوط حکومت کے خلاف ایک کامیاب قیام ممکن ہے۔
۱۲:اسلامی جمھوری ایک نمونہ عمل کے عنوان سے متعارف
بیسویں صدی کے آخر میں اسلامی اور دینی بنیادوں پر حکومت کے قیام کو ناممکن سمجھا جاتا تھا اور اسلامی ممالک کے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ مغربی اور سیکولر نظام کو اپنا نمونہ عمل بنائیں لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی اور آٹھ سالہ جنگ میں کامیابی نے اسلامی دنیا کو ایک نیا نمونہ عمل دیا جسکی بنیاد دین اسلام ہے اور جسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
۱۳:انقلاب اسلامی کا رہبر، آئیڈیل رہبر کے عنوان سے
مغرب کے سیاسی علوم میں ایک رہبر کی خصوصیات یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کو پانے کے لئے ہر قسم کی تدبیر، مکر اور فریب سے کام لے سکتا ہے اور اس کے اندر کوئی بھی اخلاقی صفات کی موجودگی ضروری نہیں ہے۔لیکن اسلامی رہبر مثلا امام خمینیؒ کا لوگوں کے سامنے آنا کہ جو ایک عالم تھے اور اخلاق کے بلند درجے پر تھے ،نے لوگوں کو ایک آئیڈیل رہبر سے متعارف کروایا ۔کہ جسکی پیروی ایک ملت کو ۱۰۰ فیصد ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔
اسکے علاوہ انقلاب اسلامی کے تحت تاثیر بہت سے اسلامی ممالک میں انقلاب کی کوششیں کی گئی جن میں بحرین اور مصر سر فہرست ہیں ۔بلا شبہہ انقلاب اسلامی ایران نے لوگوں کی اسلام کے بارے میں فکر کو چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ،شیعہ ہو یا سنی ،بطور کامل تبدیل کیا ۔
خدا سے دعا ہے کہ اس انقلاب کو امام زمان عجل اللہ فرجہ کے انقلاب سے ملا دے اور ہمیں انکے اعوان و انصار میں شامل کرے۔
منابع
1: تحلیلی بر انقلاب اسلامی ایران ،محمد مھدی بابا پور
2: بازتاب جھانی انقلاب اسلامی ،دکتر منوچھر محمدی
3: ویکی پیڈیا ،اسلامی انقلاب ایران
دیدگاهتان را بنویسید