تحریر: محمد جان حیدری

جب رسول خدا (ص) حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کے موقع پر علی (ع) و فاطمہ (س) کے گھر تشریف لائے تو آپ نے نومولود بچی کو اپنی آغوش میں لیا۔ اس کو پیار کیا اور سینے سے لگایا۔ اس دوران علی (ع) و فاطمہ (س) نے کیا دیکھا کہ رسول خدا (ص) بلند آواز سے گریہ کر رہے ہیں۔ جناب فاطمہ (س) نے آپ سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا "بیٹی، میری اور تمہاری وفات کے بعد اس پر بہت زیادہ مصیبتیں آئیں گی۔" کتب تاریخی میں شریکۃ الحسین کے ذکر شدہ القاب کی تعداد تقریباً 61 ہے۔ ان میں سے کچھ مشہور القاب درج ذیل ہیں، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزھراء، عقیلہ بنی ھاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغریٰ، محدثہ، کاملہ، عاقلہ، عابدہ، زاھدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء۔

عالمہ غیر معلمہ کا بچپن معصومین کی زیرنگرانی رہا۔ آپکی خوش قسمتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی تربیت کرنے والی ماں سیدہ نساءالعالمین حضرت فاطمہ (س) ہیں، وہ فاطمہ جو دختر رسول ہے، جس کی رضا میں خدا راضی اور جسکے غضب سے خدا غضبناک ہوتا ہے۔ وہ فاطمہ جو بضعۃ الرسول ہے، جو خاتون جنت ہے، وہ فاطمہ کہ جس کی عبادت پر پروردگار مباہات فرماتا ہے، وہ فاطمہ جس کی چکی جبرئیل علیہ السلام چلاتے ہیں۔ اگر باپ کو دیکھیں تو حیدر کرار جیسا باپ ہے، آپ نے امام علی (ع) جیسے باپ کی زیر نگرانی پرورش پائی ہے۔ اس کے علاوہ پیغمبر اکرم (ص)، جو تمام انسانوں کے لئے "اسوہ حسنہ" ہیں، نانا کی حیثیت سے آپ کے پاس موجود ہیں۔ لہذٰا یہ آپ کے افتخارات میں سے ہے کہ آپ نے رسول خدا (ص)، امام علی (ع) اور فاطمہ زہرا (س) جیسی بےمثال شخصیات کی سرپرستی میں پرورش پائی۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی تربیت کس قدر بہترین اور مقدس ماحول میں ہوئی۔

آپ کی شادی 17 ہجری میں آپ کے چچازاد بھائی عبداللہ ابن جعفر ابن ابیطالب سے ہوئی۔ عبداللہ حضرت جعفر طیار کے فرزند اور بنی ہاشم کے کمالات سے آراستہ تھے۔ آپ کے چار فرزند تھے، جن کے نام محمد، عون، جعفر اور ام کلثوم ہیں۔ (البتہ آپکی اولاد کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے) کربلا کا واقعہ انسانی تاریخ میں ایک بےمثال واقعہ ہے۔ لہذٰا اس کو تشکیل دینے والی شخصیات بھی منفرد حیثیت کی حامل ہیں۔ امام حسین (ع) اور ان کے جانثاروں نے ایک مقدس اور اعلٰی ہدف کی خاطر یہ عظیم قربانی دی، لیکن اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا اس عظیم واقعے کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتیں تو بلاشک وہ تمام قربانیان ضائع ہو جاتیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے، "کربلا در کربلا می ماند گر زینب نبود۔" لٰہذا اگر ہم آج شہدائے کربلا کے پیغام سے آگاہ ہیں اور ان کی اس عظیم قربانی کے مقصد کو درک کرتے ہیں تو یہ سب عقیلہ بنی ہاشم سلام اللہ علیہا کی مجاہدت اور شجاعانہ انداز میں اس پیغام کو دنیا والوں تک پہنچانے کا نتیجہ ہے۔

بلاشبہ اسی وجہ سے انہیں "شریکۃ الحسین" کا لقب دیا گیا ہے۔ اگر امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثاروں نے اپنی تلواروں کے ذریعے خدا کی راہ میں جہاد کیا تو شریکۃ الحسین سلام اللہ علیہا نے اپنے کلام اور اپنے خطبات کے ذریعے اس جہاد کو اس کی اصلی منزل تک پہنچایا۔ کربلا میں سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کرنے کے بعد دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کو ایک بے نظیر فتح نصیب ہوئی ہے اور اس کے مخالفین کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا ہے، لیکن نائبۃ الحسین سلام اللہ علیہا کے پہلے ہی خطبے کے بعد اس کا یہ وہم دور ہوگیا اور وہ یہ جان گیا کہ یہ تو اس کی ہمیشہ کیلئے نابودی کا آغاز ہے، یزید کا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اور حسین آج بھی زندہ ہے۔

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منابع:

آفتاب در مصاف۔ رھبر معظم انقلاب

زینب کبریٰ ولادت سے شھادت تک۔ آیت اللہ کاظم قزوینی

 

بی آر بی نہر اور اُس کی تاریخ

سید امجد حسین بخاری  

بی آر بی کے کنارے چلتے ہوئے جا بجا ہندوستانی فوج کے مورچے اور پاکستانی جانبازوں کی جراتوں کی داستانیں دیکھنے اور سننے کو ملیں۔

آم کے گھنے درخت تلے، بی آر بی نہر کنارے بنائے گئے ٹیوب ویل کے پانی سے قربانی کے بیل کو نہلاتے ہوئے ہماری ملاقات ہوئی نور محمد سے۔ اپنی دنیا میں مگن، ماتھے پر پسینے کے بہتے ہوئے قطرے چمکتی چاندنی کی صورت ان کے چہرے کو جگمگا رہے تھے۔

میں ستمبر 1965ء کی جنگ کی عینی شاہد کی تلاش میں اپنے دوست اسد کے ہمراہ بی آر بی کے کنارے بسے ان کے گاؤں واہگڑی آیا تھا۔ مجھے یہاں کسی بزرگ سے ملنا تھا۔ موٹر بائیک سے اترتے ہی نور محمد پر نظر پڑی۔ سلام کیا، اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو نور محمد فوراً بولے، پتر اے گلاں بمبی کنارے نئیں ہوندیاں (بیٹا! یہ باتیں نہر کنارے نہیں ہو سکتیں)۔ بس پھر ان کی دعوت پر نہر سے کچھ فاصلے پر موجود آم کے درخت کے نیچے چبوترے پر بیٹھ گئے۔ ستمبر 1965ء کا تذکرہ چھڑا تو ایک نگاہ آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا اور گویا ہوئے،

وہ اس وقت 25 برس کے تھے جب ہندوستان نے پاکستان کی سرحدوں پر حملے کی جسارت کی۔ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ آسمان سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، ہندوستانی ٹینکوں کی آوازیں آج بھی ان کے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ لازوال جدوجہد اور جذبہ تھا۔

سچ پوچھیں تو میں نے 65ء کی جنگ کے جتنے بھی واقعات کتابوں میں پڑھے تھے یا بزرگوں کی زبانی سنے تھے ان میں پاک فوج کے جوانوں کے جذبہ ایمانی اور بہادری کے ساتھ ساتھ بی آر بی نہر کی داستانیں بھی تھیں۔ انہی داستانوں کو سننے کے لئے میں اس نہر کے کنارے پہنچا تھا۔ نور محمد جب جنگ کے واقعات بیان کر رہے تھے تو میرا بار بار دھیان بی آر بی کی جانب جاتا، بالاخر میں نے ان سے کہہ بھی ڈالا کہ کچھ تذکرہ اس نہر کا بھی کر دیں اور مجھے اس کے بارے میں بتائیں۔

نور محمد کے مطابق دیپالپور نہر جو کہ حسین والا ہیڈ ورکس فیروز پورسے دریائے ستلج کے دائیں جانب سے نکلتی تھی جس کا ہیڈ تو بھارت میں تھا مگر ساری نہر پاکستان کے اندر سے بہہ رہی تھی۔ جب پاکستان بنا تو بھارت نے دریائے راوی کا پانی مادھو پور ڈیم بنا کر روک لیا۔ 14 مئی 1948ء کو ہندوستان سے معاہدے کے بعد پاکستان نے مرالہ کے قریب سے دریائے چناب میں ایک نہر تعمیر کی جو سدھنوالی گائوں کے قریب دریائے روای میں ملتی ہے۔ یہ نہر دریائے روای کے نیچے سے بہتی ہے اور بیئیاں گاؤں کے قریب دیپالپور نہر میں مل جاتی ہے۔ اس کی تکمیل 1958ء کو ہوئی، اس لنک نہر بی آر بی ڈی کا اصل اور مکمل نام ’بمبانوالا راوی بیدیاں دیپالپور‘ نہر ہے۔ اس بی آر بی نہر سے لاہور کی نہر کو بھی پانی فراہم کیا گیا۔ گویا راوی کے کنارے آباد لاہور شہر کی اس نہر میں راوی کے بجائے چناب کا پانی دوڑتا ہے۔

 

جس طرح اس نہر کے نام کے پیچھے دلچسپ حقائق کارفرما ہیں اسی طرح اس نہر کو کھودے جانے کی بھی ایک اور دلچسپ وجہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع یہ نہر لاہور کی عوام کی جانب سے 1948ء میں کھودی گئی تھی۔ زندہ دلان لاہور نے صوبہ پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ کی اپیل پر یہ نہر اس وقت کھودی جب انہوں نے اعلان کیا کہ اس مقام پر نہر کھودنے سے پاکستان کو بھارتی افواج کی جانب سے ممکنہ شر انگیزی سے نجات حاصل ہوجائے گی۔ ان کی اپیل پر شہریوں نے 8 کلومیٹر رقبہ پر محیط یہ نہر محض چند دنوں میں بلا معاوضہ ہی کھود ڈالی۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی اس نہر کی وجہ سے ہی بھارتی افواج کا لاہور میں ناشتہ کرنے کا خواب تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

 

نور محمد کے بیان کی تصدیق اس وقت پاکستان آرمی میں اگلے مورچوں پر لڑنے والے اقبال صاحب نے بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج جب پاکستان کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں تو اس وقت بی آر بی نہر نے پاکستان کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان آرمی کی جانب سے بی آر بی نہر کا پانی سرحدی علاقوں میں چھوڑ دیا گیا، جس کی وجہ سے سرحد پر دلدل بن گئی اور دشمن کے ٹینکوں کی پیش قدمی رک کئی جبکہ دوسری جانب چونکہ پاکستانی فوج نے کامیابی سے اس نہر پر موجود پلوں کی حفاظت کی اور جہاں ان کی پوزیشن کمزور تھی ان پلوں کو تباہ کردیا گیا۔ یوں پاکستانی جوانوں نے بھارتی افواج کو اس وقت تک روکے رکھا جب تک کہ انہیں فوجی کمک نہ پہنچ گئی۔ جس کے بعد بھارتی افواج کو مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا۔ میجر عزیز بھٹی نے بھی اسی نہر پر جنگ لڑتے ہوئے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا اور نشان حیدر کے حق دار ٹھہرے۔

 

اقبال صاحب اور نور محمد دونوں نے اس جنگ کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا کہ جب بھارت نے واہگہ بارڈر اور باٹا پور سیکٹر کی جانب پیش قدمی کی اور توپوں، ٹینکوں اور ٹڈی دل لشکر کے ساتھ حملہ کیا تو لاہور کا یہ سرحدی مشرقی علاقہ جو آج واہگہ نہالہ نروڑ ڈیال، جلو موڑ، باٹاپور بھین، بھانو چک، ساہنکے، پڈھانہ اور بڈیارہ برکی پر مشتمل ہے ایک خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔

 

سرحدی علاقہ کےعوام پاکستان آرمی کے پہنچنے سے پہلے ہی ہندوستانی افواج کا راستہ روک کر کھڑے ہوگئے۔ ہندوستانی افواج کا مقابلہ کلہاڑیوں، لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے کیا۔ بی آر بی پر بنے پلوں کے راستوں سے جانور اور بچے محفوظ کیمپوں کی جانب روانہ کردئیے، جبکہ ان دیہاتوں کی عورتیں اور بوڑھے بھی جوانوں کے ہمراہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔

 

نور محمد کا کہنا تھا کہ میری والدہ اور دو بہنوں کو خاندان کے افراد نے بچوں کے ہمراہ روانہ ہونے کا کہا تھا مگر انہوں نے جانے کے بجائے بہادری سے لڑنا شروع کردیا اور میری بہنیں میرے والد سے کہنے لگیں کہ آپ ہمارے اندر حضرت صفیہ جیسی بہادری اور حضرت زینب جیسا صبر اور حوصلہ پائیں گے۔ اقبال صاحب کا کہنا تھا کہ نہر کی دوسری جانب سے لاہور کے رضاکار اور نوجوان اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے باٹا پور کی جانب چل پڑے تھے۔ لاہور کینال کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں کے لوگ جب محفوظ مقامات کی جانب جارہے تھے تو لاہور کے رہائشی نہر کے پانی میں سے گزرتے ہوئے ہمیں کھانے پینے کی اشیاء پہنچا دیتے تھے۔

میں ان دو بزرگوں کی گفتگو سن کر تصور میں خود کو اس نہر کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا محسوس کررہا تھا۔ سرحدی علاقوں کی غازی خواتین ہوں یا لاہور اور پورے پاکستان کی وہ عفت ماب عورتیں جنہوں نے اپنے زیور دفاع وطن کی خاطر دے دئیے تھے، سبھی کے سراپے میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔ نور محمد نے لسی کے ساتھ ہماری تواضع کی۔ ان کی محبت اور آنکھوں کی چمک گھنٹوں بیٹھنے پر مجبور کر رہی تھی مگر واپسی بھی ضروری تھی۔

 

اسد کے مشورے سے راوی سائفن کی جانب جانے کا فیصلہ کیا۔ بی آر بی کے کنارے چلتے ہوئے جا بجا ہندوستانی فوج کے مورچے اور پاکستانی جانبازوں کی جراتوں کی داستانیں دیکھنے اور سننے کو ملیں۔ برکی پر میجرعزیز بھٹی کی جائے شہادت دیکھی جہاں انہوں نے جرات اور بہادری کی لازوال داستان رقم کی۔ مناواں کے مقام پر پاک فوج تیسری بلوچ رجمنٹ کے اُن 39 افراد کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگار دیکھی جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں واہگہ سیکٹر، باٹاپور پل بی آر بی کینال پر مادر وطن کا زبردست دفاع کیا اور 10 اور 11 ستمبر 1965ء کو دشمن پر جوابی حملہ کیا۔ لاہور شہر کا ذرہ ذرہ ان شہداء اور غازیوں کی یادوں سے بھرا ہوا ہے جس نے عددی اور عسکری اعتبار سے کئی گنا بڑے لشکر کو شکست دی۔

بی آر بی نہر کے دونوں جانب لگائے جانے والے مائنز کے بارے میں بعض افراد نے پروپیگنڈا کیا۔ لیکن شاید وہ لوگ اس کے محل وقوع سے واقف نہیں ہیں کیوںکہ اس کے دونوں جانب دیہات آباد ہیں اور مائنز لگانا ممکن نہیں۔ بی آر بی نہر حقیقت میں پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم کردار کی حامل ہے۔ ایک جانب ملک کے آب پاشی کے نظام کو بہتر بنانے میں اس کا متبادل نہیں جبکہ دوسری جانب ہمارے ملک کے دفاع کو مضبوط اور مستحکم بنا رہی ہے۔ اسی نہر سے ایک اور نہر نکالی گئی ہے جو واہگڑیاں گاؤں سے شروع ہوتی ہے اور ٹھوکر نیاز بیگ تک جاتی ہے۔ جس کے دونوں جانب لگے ہوئے درخت نہر اور لاہور کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ مگر اسی نہر کے گرد بنائے گئے رہائشی اسکیموں کا سیوریج اس حسین نہر کو آلودہ کر رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ نہر کی خوبصورتی کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے حکومت اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اہلیان لاہور بی آر بی اور لاہور کینال کے احسان مند رہتے ہوئے اس کا خیال بھی رکھیں کیوں کہ 65ء کی جنگ میں اسی نہر نے اہلیان لاہور کی حفاظت کی اور دشمن کا لاہور کے جم خانہ میں چائے پینے کا خواب چکنا چور کیا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

(بشکریہ ایکسپریس)

ترجمہ و تحقیق: افتخار علی جعفری

 

دختر رسول خدا (ص) حضرت فاطمہ زہرا(س) کی شہادت کے ایام ہیں۔ حضرت زہرا(س) کا اسم گرامی ذہن میں آتے ہیں ان پر پڑے مصائب بھی انسان کے ذہن میں آ جاتے ہیں۔ اور جب مصائب کا تذکرہ آتا ہے باغ فدک کا آپ سے چھینا جانا اور حضرت زہرا(س) کا اپنا حق مانگنے کے لئے دربار خلیفہ میں جانا بھی انسان کے ذہن میں آ جاتا ہے اور انسان کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ باغ فدک کے بارے میں زیادہ جانکاری حاصل کرے جس کی خاطر دختر رسول دربار خلیفہ تک گئیں۔ اسی وجہ سے ایام فاطمیہ میں باغ فدک کے بارے میں ایک مختصر تحقیق کی گئی ہے جو خاندان اہلبیت(ع) کے چاہنے والوں کی نذر کی جاتی ہے۔

فدک ایک گاؤں کا نام ہے جو مدیںہ النبی سے ۲۶۰ کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے یہ علاقہ سرسبز و شاداب اور درختوں سے لبریز تھا یہ گاؤں، خیبر کا حصہ تھا اور مدینہ کے یہودی اس میں زندگی گزارتے تھے اس میں کاشت کرتے تھے اور اس کے باغات سے اپنی روزی روٹی کماتے تھے یہ علاقہ ایک ذرخیز اور بہترین درآمد والا علاقہ تھا۔

اس کے بعد امیر المومنین علی علیہ السلام نے جنگ خیبر میں خیبر کا قلعہ فتح کیا یہودیوں نے پیغمبر اکرم (ص) سے صلح کرنے کی خاطر فدک کا علاقہ پیغمبر اکرم (ص) کو بخش دیا۔ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے مبارک ہاتھوں سے فدک میں خرمے کے درخت لگائے اور اس کے قرآن کریم کے حکم سے اسے اپنی لخت جگر فاطمہ زہرا(س) کو ہدیہ دے دیا(۱)۔

پیغمبر اکرم کی رحلت کے بعد، خلیفہ اول نے اس پر قبضہ کر لیا اور حضرت زہرا(س) کے خادموں وہاں سے نکال کر اپنے مزدور اس می کام پر لگا دئے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے خلیفہ اول سے فدک حاصل کرنے کے مقدمہ دائر کیا اور اپنا حق واپس لینے کی بھرپور کوشش کی لیکن انہیں واپس نہ دیا گیا۔ خلیفہ ثانی نے اپنے دور حکومت میں اسے یہودیوں کو لوٹا دیا۔ خلیفہ ثالث نے دوبارہ یہودیوں سے واپس کر کے مروان اور دیگر رشتہ داروں کو بخش دیا بنی امیہ کے خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے دور حکومت تک یہ فدک بنی امیہ کے پاس رہا۔

عمر بن عبد العزیز نے فدک کو حضرت فاطمہ زہرا(س) کی اولاد کو واپس کر دیا لیکن یزید بن عبد الملک نے دوبارہ اولاد فاطمہ(س) سے اسے چھین لیا۔ عباسی خلیفہ سفاح نے اسے عبد اللہ محض کو دیا لیکن منصور دوانیقی نے دوبارہ اس پر قبضہ کر لیا مہدی عباسی نے اسے ایک بار پھر اولاد زہرا(س) کو واپس کر دیا لیکن موسی بن مہدی نے پھر چھین لیا۔ آخر کار مامون نے اپنے سرکاری حکم کے مطابق فدک کو اولاد زہرا(س) کو واپس دے دیا۔

لیکن مامون کے بعد متوسل نے اس باغ کو پھر اولاد حضرت زہرا(س) سے چھین کر اسے عمر بازیار کو بخش دیا عبداللہ بن عمر بازیار نے فدک میں لگائے ہوئے ان درختوں کو کاٹ دیا جو پیغمبر اکرم نے اپنے دست ہائے مبارک سے لگائے ہوئے تھے درخت کاٹنے کے بعد اس کے ہاتھ شل ہو گئے (۲)

بنی عباس کی حکومت کا سلسلہ ختم ہونے اور عثمانی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد پورا عربستان عثمانی حکومت کے زیر قبضہ آ گیا اور اس علاقے کی اہمیت بھی پیغمبر اکرم(ص) کے لگائے ہوئے درختوں کے کاٹ دئے جانے کے بعد ختم ہو گئی اور تاریخ میں بھی اس کے بعد کا تذکرہ نہیں ملتا ہے۔

موجودہ دور میں فدک کا علاقہ کہاں واقع ہے؟ اس کے بارے میں تحقیق کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اس وقت فدک کو حرہ ہتیم یا الحویط کے نام سے جانا جاتا ہے جو حرہ خیبر کے مشرق میں واقع ہے۔

مدینہ شناسی کے مولف لکھتے ہیں کہ سرزمین فدک کے بارے میں کافی تلاش و جستجو میں نے کی آخر کار اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس وقت فدک کا کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے اس سرزمین کو حائط کے نام سے جانا جاتا ہے جو امارات حائل کے تابع ہے الحلیفہ کے مغرب اور ضرغد کے جنوب اور خیبر کی مشرقی سرحد پر واقع ہے۔

مولف کا کہنا ہے کہ ان ایام میں جب میں فدک کی تلاش میں تھا جو موجودہ حائط ہے ۱۹۷۵ عیسوی میں یہ علاقہ ۲۱ دیہاتوں پر مشتمل تھا جن میں گیارہ ہزار کی آبادی تھی جبکہ خود الحائط کی مرکز سرزمین میں ایک ہزار چار سو سے زیادہ لوگ نہیں رہتے تھے۔ لیکن یہ زمین کجھور کے درختوں سے بھری اور کھیتی باڑی کے لیے آمادہ سر زمین تھی جبکہ اس کے اطراف کی دیگر تمام زمینیں خشک اور بنجر تھیں۔ حائط (فدک) موجودہ دور میں اپنی سابقہ اہمیت کو کھو چکا ہے مدینہ کے کسی راستے میں بھی واقع نہیں ہے اس لیے متروک ہو چکا ہے(۳)

بہرحال ایسا لگتا ہے کہ یہ علاقہ اس وقت وہاں کے رہنے والوں کے زیر استعمال ہے اور بطور عمومی  سعودی حکومت ہی کے زیر قبضہ ہے اور اس کی درآمد سے بھی اس سرزمین پر ساکن لوگ ہی استفادہ کرتے ہیں اور کوئی خاص شخص یا کوئی خاص حکومت اس کی مالک نہیں ہے۔

حوالہ جات

۱؛ اسراء/۲۶؛ حشر/۶ و ۷؛ و بلاذری، فتوح البلدان، قم، منشورات الارومیه، ۱۴۰۴، ص ۴۲ ـ ۴۷ و ص ۳۶ ـ ۴۲؛ و مدنی، عبدالعزیز، التاریخ الامین، قم، انتشارات امین، ۱۴۱۸، ص ۴۶ و ۵۱.

۲: فالی، سید احمد، فدک، قم، مجمع الذخائر اسلامی، چاپ دوم، ۷۸، ص ۱۸۳.

۳ نجفی، محمد باقر، مدینه شناسی، آلمان، ناشر سفارت ایران در بن، ۱۳۷۵، ص ۳۳۵ ـ ۳۴۰؛ و محمد محمد حسن شراب، المعالم الاثیره فی السنه و السیره، دمشق، دار العلم، ۱۴۱۱، ص ۲۱۵.

 دور جہالت میں نوید اسلام

عرب جو اپنے آپ کو دین حضرت ابراہیم ؑ کا پیرو کہتے تھے ان کے حالات بھی دوسری قوموں کی طرح کچھ اچھے نہ تھے، ماسواء چند نفر کے تمام وحدانیت کو چھوڑ کر شرک و بت پرستی میں مشغول تھے۔
وہ گھر جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے توحید کی شمع روشن کرنے اور وحدانیت کا اعلان کرنے کیلئے تعمیر کیا تھا وہاں 360 بت سجا رکھا تھا اور اپنے ہاتھوں سے اپنے خدا بناتے تھے اور اسکی پوجا کرتے تھے۔ قتل وغارت گری، شراب نوشی، بے حیائی اور بے شرمی ان کے رگوں میں بس چکی تھی اور ان کا پیشہ بن چکا تھا۔ عشق و محبت کی داستانیں رواج بن چکے تھے۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه