اسلام نے ہر اس کام کو حرام قرار دیا ہے جو معاشرے کے کسی فرد کی شخصیت کشی کا سبب ہو اور مؤمن کے احترام تو کو خانہ کعبہ کے احترام سے بھی بالاتر قرار دیا ہےاور ان کی عزت نفس مجروح کرنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔علما نے زبان کے ستر سے زیادہ گناہ ذکر کیے ہیں۔ غیبت، جھوٹ، سخن چینی، کسی کے راز کو فاش کرنا، ملامت کرنا، زبانی زخم پہنچانا، جھوٹی گواہی دینا اور گالی گلوچ کرنے کو تاکید کے ساتھ حرام قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنی غیبت کرنے کی کسی کو اجازت دے بھی دیں تب بھی اس کی غیبت کرنا شریعت میں جائز نہیں کیونکہ اس کا برا اثر ہر صورت میں باقی رہتا ہے۔ جاسوسی، دو زبانی، الزام تراشی، لعن و نفرین، شماتت کرنا، غنا، حجت بازی، عداوت و دشمنی، بغیر علم کے کج بحثی کرنا اورفضول باتیں کرنا، قرآن پڑھنے کو کسب معاش کا ذریعہ قرار دینا، کسی کی بے جا ستائش کرنا، بے مورد غصے کا اظہار کرنا، فقر و تنگدستی کا اظہار کرنا،

دوسروں کے مال و متاع کو دیکھ کر حسد کرنا، ماں باپ کے لیے "اُٖف" کہنا، خدا سے بے جا طلب کرنا، اپنے رازوں کو دوسروں کے سامنے فاش کرنا، عورتوں کی اچھی صفات کو نامحرموں کے سامنے بیان کرنا، نامحرم عورتوں سے مذاق کرنا اور خدا کے وجود کی کیفیت کے بارے میں بحث کرنے کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔ اسی طرح خدا کا منکر ہونا، غیر خدا کی پرستش کرنا، اللہ تعالی کی طرف جھوٹی نسبت دینا، اللہ تعالی کی نشانیوں کو جھٹلانا، کفران نعمت کرنا، اللہ سے شکوہ شکایت کرنا، اللہ تعالی سے مایوسی کا اظہار کرنا، اللہ کی شان میں گستاخی کرنا، اللہ تعالی کے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال کرنا، اللہ تعالی کے عدل کو زیر سوال لانا، اللہ کی طرف اولاد کی نسبت دینا، خدائی کا دعوی کرنا، پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کا منکر ہونا، حضورؐ کی طرف مجنون ہونے کی نسبت دینا، امامت کا دعوی کرنا، حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینا اور کسی کی طرف زنا کی نسبت دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ ظالموں کے حق میں دعائے خیر کرنا، اللہ کے کاموں میں چون و چرا کرنا، اللہ کی طرف امام حسینؑ کی شہادت پر خوش ہونے کی جھوٹی نسبت دینا، خدا کے دشمنوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا، ائمہ معصومینؑ کے اسرار و رموز کو فاش کرنا، اماموں کے گوہر بار کلمات میں نقص نکالنا، امام مہدیؑ کے ظہور کے لیے وقت معین کرنا، احکام الہی کو قیاس کے پیمانے پر پرکھنا، جھوٹی گواہی دینا، قرآن مجید کی اپنی مرضی کی تفسیر کرنا، مؤمن کی اہانت کرنا، فاسق کو قابل احترام ٹھہرانا، مؤمن کو ڈرانا، مؤمن کو رسوا کرنا، دوسروں کی عیب جوئی کرنا، غلط کام کرنے والوں کی تشویق کرنا، کسی مؤمن کو غلط القابات سے پکارنا، جھوٹا وعدہ کرنا، فال بد نکالنا، ظالموں کے مظالم کی توجیہ کرنا، مسلمان بھائیوں سے قطع کلامی کرنا، سحر و جادو کرنا، احسان جتانا اورحکمرانوں کے احکامات کو اللہ کا حکم قرار دینے کوبھی گناہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں زبان کے درست استعمال کے بارے میں بہت ساری احادیث آئی ہیں وہیں اس سے کہیں زیادہ زبان کے غلط استعمال کی مذمت میں احادیث بیان ہوئی ہیں۔
حضورؐ نے ارشاد فرمایا: ان امور سے اجتناب کرو جن کے باعث تجھے معذرت کرنا پڑ جائے۔اللہ تعالی زبان کو ایسا عذاب دیتا ہے کہ جو کسی بھی اعضائے بدن کو نہیں دیتا، تب زبان گویا ہوگی کہ اے خدا! مجھے اتنا عذاب دیا گیا ہے کہ جتنا عذاب کسی بھی عضو کو نہیں دیا گیا تو اللہ تعالی فرمائے گا: تمہارے ذریعے ایسے کلمات ادا ہوگئے جو مشرق ومغرب تک پھیل گئیں، جس کی وجہ سے ناحق خون بہائے گئے، ناحق مال کو غارت کر دیا گیا اور ناموس کی حرمت پامال کی گئی۔
حضرت علیؑ کا فرمان ہے: تم اپنی زبان کو ہمیشہ نرم لہجہ اختیار کرنے اور سلام کرنے کی عادت ڈالو تواس سے تمہارے دوستوں میں اضافہ اور تمہارے دشمنوں میں کمی ہوگی۔ مؤمن خاموشی اختیار کرتا ہے تاکہ سالم رہے اور گفتگو کرتا ہے تاکہ فائدہ حاصل کرے۔ وہ بات زبان پر مت لاؤ جسے تم خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہو۔ زبان ایسا درندہ ہےجسے اگر آزاد چھوڑ دیا جائے تو ڈسنے لگتی ہے۔ اس سے پہلے کہ تمہاری زبان تمہیں طویل مدت کے لئے قید خانے تک پہنچا دے اور تجھے ہلاک کر دے، تم خود اسے اپنے کنٹرول میں رکھو! کیونکہ اس زبان کو جو صراط مستقیم سے منحرف کرنے والی ہے اور جواب دینے میں جلد بازی سے کام لینے والی ہے، اسے ہی طویل مدت کے لئے قید کئے رکھنا سب سے مناسب ہے۔بے شک مؤمن کی زبان اس کے قلب کے ماتحت ہوتی ہے جبکہ منافق کا دل اس کی زبان کے ماتحت ہوتا ہے؛ کیونکہ جب مؤمن کچھ کہنے کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے وہ اپنے تئیں سوچتا ہے، پھر اگر وہ اچھی بات ہو تو وہ کہہ دیتا ہے لیکن اگر وہ بری بات ہے تو اسے چھپا دیتا ہے جبکہ منافق کی زبان پر جو کچھ آتا ہے وہی وہ بول دیتا ہے پھر یہ نہیں دیکھتا کہ یہ اس کے فائدے میں ہے یا نقصان میں۔
امام حسینؑ کا ارشاد ہے: تم اپنی زبان سے ایسی بات مت کہو کہ جو تمہاری شخصیت کشی کا سبب بن جائے۔ بے شک آدمی کی زبان ہر روز جب دوسرے اعضاء کے پاس آکے احوال پرسی کرتی ہےتو ان میں سے ہر ایک کہتی ہے کہ اگر تو ہمیں آزادچھوڑ کے رکھے تو ہم سب ٹھیک ٹھاک ہیں۔ خدا کے لیے ہمیں اپنی حالت پہ چھوڑ دیا جائے اور تم ہم سے کسی قسم کا سروکار نہ رکھے۔ یہ اعضاء قسم کھا کے کہتے ہیں کہ تمہارے ہی ذریعے ہمیں جزا ملتی ہے اور تمہارے ہی ذریعے ہمیں سزا ملتی ہے۔
امام سجادؑ کے فرامین کے مطابق زبان کا حق یہ ہے کہ اسے ہر قسم کی بری باتوں سے محفوظ رکھا جائے،اسے اچھائی کا عادی بنایا جائے، بے فائدہ باتوں سے اسے دور رکھا جائے، لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھنے اور ان کے ساتھ اچھی باتیں کرنے کا اسے عادی بنایا جائے۔
امام محمد باقرؑ کا ارشاد پاک ہے: بے شک تمام برائیوں اور اچھائیوں کی چابی یہی زبان ہے۔لہذا مؤمن کو چاہیے کہ اس پر مہر لگائے رکھے جس طرح سونے چاندی (کی تھیلی) پر مہر لگا ئےرکھتے ہیں۔کوئی بھی شخص گناہوں سے اس وقت تک امان میں نہیں رہ سکتا جب تک کہ اس کی زبان کو لگام نہ دیا جائے۔
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: خدا کی مخلوقات میں بدترین انسان وہ ہے جس کی زبان کے شر سے لوگ اس سے اپنے آپ کو بچائے رکھے، جب اللہ تعالی کسی کو رسوا کرنا چاہتا ہے تو زبان کے ذریعے اس کی ذلت کا سامان فراہم کرتا ہے۔
لہذا ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ اپنی زبان کو فقط اللہ کی رضایت کے لیے جنبش دیں اور معصیت کے تمام موارد میں سکوت اختیارکرنے کو اپنا شیوہ قرار دیں۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه