تحریر ظہیر عباس جٹ
اخلاص
شیخ رجب علی خیاط کے دوستوں میں سےایک نقل کرتا ہے کہ شیخ رجب علی خیاط نے بیان کیا کہ تهران کی مرکزی مسجدجمعہ میں راتوں میں بیٹھ کر قران کریم کادرس دیتاتھا۔ ایک رات دو بچے آپس میں لڑائی کر رہے تھے۔ ایک بچہ دوسرے پر غالب آگیا۔
دوسرا بھاگ نکلا تاکہ مجھے مارنہ پڑے۔ وہ بچہ دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور زانوں پر بیٹھ گیا میں نے اسی فرصت سے فائدہ اٹھایا۔ سوره حمد سنی اور یہ کام اس رات میرا سارا وقت لے گیا ۔

دوسری رات ایک درویشی میرے نزدیک آیا اور کہتا ہے کہ مجھے علم کیمیا،علم نجوم، علم نباتات پرعبور حاصل ہے۔ میں تیار ہوں تاکہ آپ کو یہ تمام علوم سیکھا دوں، لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ گزشہ رات جو کام آپ نے کیا وہ مجھے عطا فرمادیں۔شیخ رجب علی خیاط نے اسے جواب دیا نہیں اگر یہ علوم میرے کام کے ہوتے لےلیتا لیکن میرے نزدیک ان کا فائدہ نہیں ہے۔
شیخ رجب علی کا اس بچے کو سوره یادکرانا فقط رضائے خداکے لیے تھا جواخلاص سےمزین تھا۔
عملِ خالص(اخلاق)
آیت اللہ العظمی بر وجر دی جس وقت مرجعیت پر فائر ہوئےتو ملیون ہا تو مان (پیسے)عطیات وغیرہ۔۔۔ ان کےپاس آتے تھے اورآپ یہ پیسہ اسلام اور مسلمانوں پر خرچ کرتےتھے۔اپنی ساری زندگی لوگوں کی خدمت اور اسلام کی سر بلندی علومِ اہل بیت علیہم السلام کے لیے خالص کوششں کرتے تھے۔
ان سارے پاک وپاکیزہ اعمال اور اخلاص کے ساتھ عملِ صالح کرتے رہے۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بسترِ بیماری پر تھے ،ایک قافلہ ان کے چاهنے والوں کا عیادت کے لے آیا۔
آیت اللہ بہت زیادہ غمگین تھے اپنا سر بلند کیا اور فرمایا: خلاصہ یہ کہ میری زندگی گزرگئی لیکن کچھ بھیج نه سکا اپنے لیے کوئی عمل جو آخرت کے لے فائدہ مندہو جس کی ضرورت ہمیں آگے پڑتی۔
ان میں سے ایک شخص نےکہا آغا آپ اور کیوں ؟؟؟
الحمد اللہ یہ سارے آثار نیک اپنی جگہ پر ہیں۔ اپنے شاگردوں کی بهترین تربیت کی ہے، مساجد اور لائبریریاں تعمیر کی هیں هم کس طرح الفاظ اپنی زبان پرلائیں کہ آپ نے کچھ نہیں کیا۔ فقیۂ علومِ آلِ محمدؐنے فرمایا: خَلِّصِ الْعَمَلَ فَإِنَّ النَّاقِدَ بَصِیْرٌ بَصِیْرٌ.
عمل خالص رکھیں کہ جانچ پڑتال کرنے والا آگاہ و دقیق دیکھنے والا ہے۔

اخلاص آیات و روایات کی روشنی میں
وَلَا يُنفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً وَلَا كَبِيْرَةً وَلَا يَقْطَعُوْنَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ.
اور (اسی طرح) وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اور جب کوئی وادی (بغرض جہاد) پار کرتے ہیں تو یہ سب ان کے حق میں لکھ دیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے اچھے اعمال کا صلہ دے
قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللّٰهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُوْنَ.
کہدیجئے: کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے مخاصمت کرتے ہو؟ حالانکہ ہمارا اور تمہارا رب وہی ہے اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال اور ہم تو اسی کے لیے مخلص ہیں۔
روایات
‏َاَلْعَمَلُ‏ الْخَالِصُ‏ الَّذِيْ‏ لَا تُرِيْدُ أَنْ يَحْمَدَكَ عَلَيْهِ أَحَدٌ إِلَّا اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ، وَ النِّيَّةُ أَفْضَلُ مِنَ الْعَمَلِ، أَلَا وَ إِنَّ النِّيَّةَ هِيَ الْعَمَلُ، ثُمَّ تَلَا قَوْلَهُ عَزَّ وَ جَلَّ: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلٰى‏ شاكِلَتِهِ‏ يَعْنِي عَلٰى‏ نِيَّتِهٖ.
عمل خالص یہ ہے کہ تم یہ نہ چاہو کہ اس پر تمہاری کوئی تعریف کرے سوائے اللہ تعالیٰ کے اور نیت عمل سے افضل ہے۔ آگاہ رہو کہ نیت ہی سے عمل ہے۔ پھر اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی: کہہ دیجیے ہر شخص اپنی شاکلہ یعنی اپنی نیت پر عمل کرتا ہے۔
أَلْزِمِ‏ الْحَقَ‏ مَنْ‏ لَزِمَهُ‏ مِنَ‏ الْقَرِيْبِ‏ وَ الْبَعِيْدِ وَ كُنْ فِي ذَلِكَ صَابِراً مُحْتَسِباً وَاقِعاً ذَلِكَ مِنْ قَرَابَتِكَ وَ خَاصَّتِكَ حَيْثُ وَقَعَ‏.
جس پر جو حق عائد ہوتا ہے اس پر حق نافذ کر (چاہے وہ) تیرا اپنا ہو یا بے گانہ اور اس بارے میں صبر کا دامن تھام رکھنا اور ثواب کے امیدوار رہنا۔ چاہے یہ(حق کا اجراء) تیرے قریبی رشتہ دار اور خاص احباب پر جیسے بھی واقع ہو۔


منابع
سورۃ التوبہ/121
سورۃ البقرۃ/139
الکافی ط دارالحدیث ج 3ص 46
خصائص آئمہ/ص123

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه