تحریر: محمدعلی شریفی

فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ
انسان اپنی چیزوں اوراپنے عزیزوں سے زیادہ محبت کرتاہے اور اس میں کبھی کبھی حد سے زیاده بڑھ بھی جاتاہے خصوصا جب انسان کے نفس کی تربیت نہ ہوئی ہو تو اپنے عزیز اور محبوب کاہرعمل بھلے لگتاہے اگرچہ اصولوں اور قوانین کےخلاف ہی کیوں نہ ہو پس کسی کےلئے ہم جیسےعام انسان کی تائید ، تصدیق اور تشویق زیادہ اہمیت نہیں رکھتی چونکہ ہم اکثر اپنے احساسات وعواطف اور جذبات سے متاثر ہوتے ہیں لیکن تاریخ میں ایسی ہستیاں بھی گزری ہیں جنہوں نے کبھی بھی کوئی بات جذبات ،احساسات اورعواطف کی بنیاد پر نہیں کہی ان میں سے ایک ہستی ایسی بھی ہے جب کسی سے اظہار محبت کرتی ہے اور حد سے زیادہ چاہت دکھاتی ہے تو اندازہ ہوتاہے کہ یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتی ان کی محبت اور دشمنی ہمیشہ خداکےلئے ہوتی ہے تاریخ اٹھاکردیکھیں

توپتہ چلتاہے کہ مَایَنطَقُ عَنِ الھَوَا اِن ھُوَ اَلاَّ وَحیٍ یُّوحَی کی مالک شخصیت جب کسی ہستی سےاتنی محبت کااظہار کرتی ہے تو یقینا انسانی جذبات اور احساسات سےہٹ کر یہ عمل انجام دےرہی ہوتی ہے جس کااظہار وہ خود اپنے بہت سے فرامین میں کرچکی ہےجس میں اپنے لاڈلوں سے اظہار محبت ہمیشہ کچھ معمول سےہٹ کرکیا ہے کبھی حسنین شریفین کےلئے ناقہ بنتےنظر آئے تو کبھی خطبہ دینےکےدوران منبر سے اتر کر ان کو اپنی گود میں لیتی تو کبھی فرامین کے ذریعے دنیا والوں کو ان کی اہمیت اور شخصیت بتانے کی کوشش کی ان ہستیوں کی طہارت اور اہمیت کی گواہی قرآن نے دی ہے لیکن اس کے باوجود امت مسلمہ نے آپ کے جانے کےفورا بعد ان ہستیوں کی حرمت کاکوئی پاس نہیں رکھا طرح طرح کی تہمتیں لگائیں اور ازیتیں پہنچانے سے گریز نہیں کیا۔۔
آسمان امامت کادوسرا ستارہ امام حسن ع کی ولادت۔۔
الارشاد میں مرحوم شیخ مفید علیہ الرحمہ کے مطابق آپ کی کنیت ابومحمد ہے شہر مدینہ میں پندرہ رمضان المبارک تیسری ہجری کو آپ کی ولادت ہوئی آپ کی ماں دختر رسول فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا نے ایک ایسے جنت کے کپڑے میں لپیٹ کر( کہ جوجبرئیل نےرسول خدا کےلئے جنت سے لایاتھا) اپنے بابا کے پاس لے آئیں اور آنحضرت نے آپ کانام حسن رکھا (1)
جبکہ بعض دیگر حدیثی کتب کے مطابق جب آپ کی ولادت ہوئی تو حضرت فاطمہ ع نے علی علیہ السلام سے فرمایا ہمارے اس بچے کے لئے نام رکھیں آپ نےفرمایا اس بچے کو نام رکھنے میں، میں رسول خدا پرسبقت نہیں لوں گا
جب رسول اللہ تشریف لائے تو آپ ہی نے دائیں کان میں ازان بائیں کان میں اقامت پڑھی اور علی علیہ السلام سے پوچھا اس بچے کےلئے کیانام رکھاہے؟آپ نے فرمایا یارسول اللہ میں نام رکھنے میں آپ پرسبقت نہیں لوں گا اس وقت آنحضرت نے فرمایا میں بھی اپنے رب پر سبقت نہیں لوں گا اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور کہا
آپ کو اللہ نے مبارک باد دی ہے اوراور فرمایاہے آپ اور علی کی نسبت موسی اور ہارون کی سی ہے( علی کو آپ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی ) لہذا اس بچے کو ہارون کے بیٹے کانام رکھ دو آپ نے پوچھا ان کا نام کیاتھا؟؟ جبرئیل نےکہا شبّر فرمایا میری زبان عربی ہے کیا رکھوں ؟فرمایا حسن ،اس طرح آنحضرت نے آپ کانام حسن رکھا ۔۔۔(2)
امام حسن قرآن کی نگاہ میں
جیسا کہ تمام شیعہ علماء اور بعض اہل سنت علماء کے مطابق امام حسن علیہ السلام آیہ تطہیر کے مصادیق میں سےہیں آیہ تطہیر آپ کے گھروالوں کی طہارت اور پاکیزگی پر گواہ ہے۔إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیراً(3)
آپ اصحاب مبابلہ میں سےہیں جن کی شان میں آیہ مباہلہ نازل ہوئی جس کے بارے میں اہل سنت علماء کا بھی اتفاق ہے۔ فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ{4 }
آیہ مودت آپ ہی کے اقربا کی شان میں نازل ہوئی جس میں آپ کی محبت کو واجب قرار دیاگیاہے۔ (5)
سورہ دھر کی آیت 5 سے دس تک آپ ہی کے گھرانے کی شان میں نازل ہوئیں مرحوم علامہ امینی نے الغدیر میں اس آیت کاشان نزول اہل بیت علیہم السلام ہونے کو اہل سنت کی 34 کتابوں سے ذکر کیاہے اور مرحوم قاضی نوراللہ ششتری نے ان کی 36 کتابوں سے نقل کیاہے(6)
امام حسن پیغمبر گرامی اسلام (ص) کی نظر میں
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ایسے اوصاف کے ذریعے اپنے نواسوں کو یاد کیاہے کہ اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ
آپ کی مرتبت حضور کی نگاہوں میں کتنی تھی آپ کی فضلیت کےلئے صرف حدیث ثقلین کافی ہے جس میں اہل بیت کو قیامت تک کےلئے قرآن کا ہم پلہ قرار دیا اور قرآن سے جدا ناپذیر قرار دیا ۔۔۔براء بن عازب کہتے ہیں رایت النبی صلی اللہ والحسن علی عاتقہ یقول اللھم انی احبہ فاحبہ۔۔میں نےرسول خداکو یہ کہتےہوئے سناجب آپ کے پاس امام حسن بیٹھےتھے اے اللہ میں اس سے محبت کرتاہوں تو بھی اس سےمحبت کر۔
اور ایک روایت میں آپ فرماتے ہیں
اللّهُمَّ إنّي اُحِبُّهُ فأحِبَّهُ ، و أحِبَّ مَن يُحِبُّهُ .( 7)
پيامبر خدا صلى الله عليه و آله۔امام حسن عليہ السلام کے بارے میں فرمایا : خدايا! میں اس سے محبت کرتاہوں تو بھی اس سے اور اس کے دوستوں سے بھی محبت کر۔۔
رسول اللہ کی وہ حدیث جو امام حسین علیہ السلام کے بارے میں معروف ہے اسی مضمون کے ساتھ امام حسن کےبارے میں بھی ملتی ہے
قال رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم):«حَسَنٌ مِنّی وَاَنا مِنه، اَحَبّ اللهُ مَن اَحَبّه..آنحضرت نےفرمایا حسن مجھ سے ہے اور میں حسن سےہوں خدا اس سے محبت کرتاہے جوحسن سےمحبت کرتاہے (8)
كنز العمّال کی روایت ہے :وفَدَ المِقْدامُ بنُ مَعْدِيكَرِب و عَمرو بنُ الأسودِ إلى قِنِّسْرِينَ، فقالَ معاويةُ للمِقْدامِ : أ عَلِمْتَ أنّ الحسنَ بنَ عليٍّ تُوفّي ؟ فاسْتَرجَعَ المِقدامُ ، فقالَ لَه معاويةُ : أ تَراها مُصيبةً ؟! قال : و لِمَ لا أراها مُصيبةً و قد وضَعَهُ رسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله في حِجْرِهِ فقالَ : هذا مِنّي ؟!(9)
:مقدام بن معديكرب و عمرو بن اسود قِنّسرين گئے . معاويہ نے مقدام سےکہا : تمہیں پتہ ہے حسن بن على کی وفات ہوئی ہے ؟ مقدام نےآيہ «إنّا للّه و إنّا إليه راجعون» پڑھی . معاويہ نے اس سے کہا: آيا اس کو مصیبت سمجھتےہو ؟! مقدام نے جواب میں کہا : کیسے مصيبت نہ سمجھوں ، جبکہ پيغمبر خدا صلى الله عليه و آله اس کواپنے زانو پر بٹھایا اور فرمایا یہ مجھ سے ہے۔۔۔
رسول اللہ سے منقول ہے ھَذا(حسن )مِنّی وحُسین من علی رضی اللہ عنھما۔۔
یہ (حسن )مجھ سے ہے اور حسین علی سے
(10) ابوہریرہ ہمیشہ کہاکرتا تھا میں جب بھی حسن بن علی کودیکھتاہوں میری آنکھوں سے آنسوؤں جاری ہوتےہیں چونکہ میں نےخود رسول اللہ کودیکھا اپنے لبوں کو حسن کے لبوں پر رکھ کرفرماتےتھے اللھم اِنِّی اُحَبہ فاحبہ واحب من یُحبّہ..
خدایا میں اس (حسن) سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت رکھ ۔۔۔۔(11 )
امام حسن اور یاد خدا :
امام حسن جب بھی مسجد جاتے سرمبارک کو آسمان کی طرف کرکے بارگاہ الہی میں فرماتےتھے خدایا تیرا مہمان تیرے در پر آیاہے اے نیکی دینےوالےرب ایک گنہگار تیری بارگاہ میں آیاہے اے کریم !تیرے خوبصورت فضل وکرامت کاواسطہ میرے گناہوں سے درگذرفرما۔۔
آپ جب بھی عبادت کےلئے تیارہوتے تو آپ کارنگ تغییر کرتا تھا اور جسم لرزنےلگتاتھا۔( 12)
امام کی زندگی کےمراحل
امام کی زندگی دومرحلوں میں تقسیم ہوتی ہے امامت سے پہلے کی اور بعد کی زندگی ۔۔
خود امامت سے پہلے کی زندگی یعنی علی علیہ السلام کی شہادت سے پہلے کی زندگی تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے
1۔آپ کابچپنا یعنی 7 سال اپنے نانا رسول خدا کے ساتھ گزارے اس مختصر عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے مختلف مواقع میں آپ کی فضیلت اور اہمیت کو بیان کرنے سے کوئی فرصت فروگزار نہیں کی ۔جب بھی موقعہ ملتا تھا ان دونوں ہستیوں کاتعارف کرایا اور ان دونوں کو جنت کے جوانان کے سردار قراردیا۔
2۔خلفاء ثلاثہ (تینوں خلفاء کادور )
ان ادوار میں بھی آپ نے اپنے بابا کے ساتھ اسلام کی خدمت میں گزاری۔ بلاذری سند معتبر کےساتھ انساب الاشراف میں لکھتےہیں : «وَحَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حماد بن سلمه، عن هشام ابن عُرْوَه، عَنْ عُرْوَه قَالَ: خَطَبَ اَبُو بَکْرٍ یوما فجاء الحسن فقال انْزِلْ عَنْ مِنْبَرِ اَبِی۔۔۔۔۔۔۔ عروه نقل کرتاہے ایک دن ابوبکر خطبہ دے رہاتھا. امام حسن (علیه‌السّلام) آئے۔۔
آپ نے ایک مرتبہ بلند آواز میں فرمایا میرے باباکے منبر سے اترجا ابوبکر نے کہا قسم بہ خدا درست کہا یہ منبر تیرے باپ کاہے نہ میرے باپ کا۔(13)

3۔ اپنے بابا کی حکومت کا دور۔۔
جہاں تاریخ اٹھاکردیکھیں تو اندازہ ہوتاہے تینوں جنگوں(جمل صفین ،نہروان ) میں آپ کاکردار نمایاں طور پر نظر آتا ہے جنگ جمل کےلئے افرادی قوت جمع کرنے میں محمدبن ابی بکر اور محمدبن جعفر جب کوفہ سے ناکام لوٹے تو آپ اور عمار گئے اور تاریخ نگاروں کے مطابق آپ نے ابو موسی اشعری کو والی کوفہ کےمنصب سے برطرف کرکے مسجد کوفہ میں ایک ایساخطبہ دیا جس سے ہزاروں کالشکر اپنے ہمراہ لانے میں کامیاب ہوئے۔۔۔(14)
جنگ صفین میں بھی آپ کا کردار نمایاں نظرآتاہے رسول خدا کے دونوں نواسوں کی جنگ دیکھ کر علی علیہ السلام نے فرمایا ان دونوں کو جنگ سےروکو کہیں ان کی شہادت سے نسل رسول منقطع نہ ہوجائے ۔۔۔۔
آپ کی امامت کادور
یہ دور دوحصوں پرمشتمل ہے
لوگوں کی بیعت سے صلح تک اور صلح سے شہادت تک ،گرچہ ظاہری طور پر بھی امام حسن کی بیعت بھی باقی خلفاء کی بیعت کی طرح تمام تقاضوں کے مطابق ہوئی آپ نے اپنے بابا کی شہادت کے بعد ایک معنی خیز خطبہ ارشاد فرمایا !
اے لوگوا اس رات میں قرآن نازل ہوا اور جناب عیسی بن مریم کو آسمان پراٹھایاگیا اور یوشع بن نون قتل ہوئے اور میرے بابا بھی اس رات کوشہید ہوئے ۔خدا کی قسم میرے بابا سے پہلے اور بعد کے اوصیاء میں سے کوئی بھی ان سے پہلے بہشت میں نہیں جائےگا جب بھی رسول خدا ان کو جنگجووں سےلڑنے بھیجتے تو جبرئیل دائیں طرف اور میکائیل بائیں طرف لڑتےتھے انہوں نے کوئی مال ودولت نہیں چھوڑی ۔۔۔۔۔۔(15)
امام کےخطبے کے بعد عبیداللہ بن عباس اٹھے اور مسلمانوں کو بیعت کرنے پرآمادہ کیا اور کہا اے لوگو یہ تیرے پیغمبر کا فرزند ہیں اور تیرے امام کے جانشین ہیں ۔۔لہذا اس کی بیعت کریں ۔۔لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور کہا آپ سب سے زیادہ شائستہ ہیں (16)
لیکن معاویہ نے ان تمام اصولوں کو پامال کرتےہوئے آپ کی حکومت کو ماننےسے انکار کیا اور آپ پر جنگ مسلط کی گئی۔۔
دشمنوں کا امام کی شخصیت پر وار:
یہ امام اس وقت بھی اور آج بھی مظلوم ہیں جھوٹی تاریخ اور جعلی روایتوں کے ذریعے اس عظیم ہستی کی شخصیت کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بنی امیہ کی پوری مشینری کی طرف سےعلی و آل علی کے خلاف ان کی شخصیت کو کم اور خراب کرنےکےلئے طرح طرح کی روایتیں گھڑی گئیں اور خصوصا امام حسن کی شخصیت کوخراب کرنے میں ناداں دوستوں اور آگاہ دشمنوں خصوصا منصورعباسی کے مکروہ عزائم نے سب سے زیادہ اپنا کردار ادا کیا بنی عباس نے بنی ہاشم پر ہونے والے مظالم کو وسیلہ اور انتقام خون حسین علیہ السلام کادلسوز نعرہ لگاکر اقتدار حاصل کیا لیکن جب اقتدار پر مکمل قابض ہوئے تو پھر یہ ان لوگوں نے بھی بنی امیہ کی سیرت کو ہی اپنانا شروع کیا جس پر اولاد حسن بن علی کی طرف سے مختلف ادوار میں حکومت بنی عباس کےظلم کے خلاف شورش برپاکردی ان بغاوتوں کودبانے اور آل حسن کی تحریکوں کو ناکام اور بےاثر کرنے کےلئے امام حسن کی شخصیت کشی کی گئی تاکہ لوگ اولاد حسن بن علی کاساتھ نہ دیں اس میں ہمارے ہی کچھ سادہ لوح افراد اور کچھ بزرگوں کے سہو قلم کی وجہ سے اپنی کتابوں میں ان واقعات کو لکھ ڈالا جوکہ تحلیل اور تحقیق کے طالب ہیں۔
صلح امام کی پیچیدگیوں کو امام کے بعض قریبی اصحاب بھی سمجھنے سے قاصر رہے امام کے قریبی ساتھی حجربن عدی جیسی ہستی نے بھی زبان اعتراض اور شکایت دراز کی جس پر وَغَمَزَالحُسَینُ حُجرَ امام حسین ع نے حجر کو خاموش کرایا۔(17)
آپ علیہ السلام نے صلح خوشی سے نہیں کی بلکہ آپ پر مسلط کی گئی تھی لیکن امام کی بہترین تدبیر نے معاویہ کااصل چہرہ دنیا کے سامنے نمایاں کردیا. رہبر انقلاب اسلامی فرماتےہیں اگر صلح امام حسن نہ ہوتی تو واقعہ کربلا بھی نہ ہوتا اگر واقعہ کربلا نہ ہوتا تو آج پوری دنیا سے اٹھنے والی تحریکیں بھی نہ ہوتیں۔۔(18)

حوالہ جات:
1)الارشادشیخ مفید جلد دوم ص 1
2)معانی الاخبارص 57 علل الشرائع ص137 ،بحارالانوار ص 43/ص 240 حدیث8
3)سورہ احزاب آیت 33
4)آل عمران/61
5)شورا 23
6)الغدیر ج3 ص107/احقاق الحق ج 3ص157
7)كنز العمّال : 37640 (ماخوذ از کتابخا نه احادیث الشیعه )
8)مجلسی بحار الانوار ج43ص 306
9)كنز العمّال : 37658 .(ماخوذ از کتابخانہ احادیث الشیعہ ۔)
10)مسند احمد 132/4چاپ مصر1313ھ ماخوذ ازپیشوایان ہدایت گروہ مولفان سید منذرحکیم ،وسام بغدادی ، مجمع جہانی اہل بیت
11)تاریخ دمشق ابن عساکر 10/7چاپ دارالفکر1405ھ
12)مناقب 180/3بحارالانوار 339/43
13)بلارزی ااحمدبن یحی انساب الاشراف ج 3 ص 26/صواعق محرقہ 175۔۔ تاریخ الخلفا۔
14)پیشوای ہدایت سبط اکبر ص 116 (سیدمنذ الحکیم وگروه مولفان)
15)امالی ص 192
16)ابوالفرج اصفهانی مقاتل الطالبین ص 34
17)انسان 250 ساله ( مجموعه تقاریر رہبر انقلاب اسلامی )
18)دو امام مجاہد ص 11(رہبر انقلاب کی تقاریر کامجموعہ) ۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه