حالات زندگی سید اکبر علی شاہ موسوی/ شمشاد نوری
نام . جناب حجت الاسلام والمسلمین الحاج سید اکبر علی شاہ موسوی ولد سید محمد علی شاہ موسوی
تا ریخ ولادت .12/6/1938
تاریخ وفات 6/4/2016/13رجب ١٤٣٧ہجری ق)
مرحوم نےابتدائی تعیلم اپنے پدر بزرگوار کے پاس حاصل کی اس کے بعد کچھ عرصہ اپنے علوم کی تشنگی کو استاد محترم جناب حجت الاسلام شیخ غلام حیدر( مہدی ابادی) کے پاس بجھاتے رہے اسی دوران اپنے استاد بزگوار کےنیک مشورہ پر عمل کرتے ہوئے علوم آل محمد سے غوطہ زن ہونے کےلئے نجف الاشرف کی طرف رخت سفرباندھا وہاں پر بھی مخلتف علما ومراجع عظام سے کسب فیض کرتے رہے لیکن دوارن تحصیل ہی اپنے برادر بزرگ اغا سید حسین موسوی کی وفات ہوئی اس بڑے صدمے کے بعد آپ اپنے وطن عزیزمیں واپس تشریف لایئے اور اپنے منطقہ ( سید اباد کمنگو گونس کھرمنگ )میں اپنےشرعی وظیفے کو بطور میر واعظ تقریبا ٤٠سال تک احسن طریقے سے انجام دیتے رہے۔
شیخ طوسی رہ کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر/ تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
شیخ طوسی رہ کی ولادت
پانچویں صدی ہجری کے نامور متکلم، فقیہ، مفسّر، عظیم محدث ، شیخ اعظم، شیخ الطائفہ، شیخ ابو جعفر محمد بن حسن بن علی بن حسن طوسی ماہ مبارک رمضان سنہ ۳۸۵ قمری کو امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے جوارشہر خراسان میں متولد ہوئے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی یہاں تک کہ اپنی نوجوانی کا زمانہ بھی طوس میں ہی بسر کیا۔آپ کی کنیت ابو جعفر ہے اور کبھی کبھار آپ کو شیخ کلینی اورشیخ صدوق کے مقابلے میں چونکہ ان کی کنیت بھی ابو جعفر ہیں آپ کو ابوجعفر ثالث کہا جاتا ہے۔
علامہ سید ضیاء الدین رضوی ایک زندہ جاوید شخصیت/تحریر: ایس ایم شاہ
ایک دبلا پتلا سا لڑکا جو بہت ہی ذہین و فطین تھا، جس کا اٹھنا بیٹھنا ہمیشہ علم و فضل سے سرشار افراد میں ہوتا تھا، گھرانہ بھی ایسا جہاں صوم و صلواۃ اور ہمیشہ محو عبادت رہنا تو روز کا معمول تھا، یہ حقیقت تو اظہر من الشمس ہے کہ جب بچپن ہی میں ایسے قبلہ نما اور نفوس قدسیہ کی ایسی صحبت میں اٹھنا بیٹھنا نصیب ہو، جن کی علمی قندیلوں سے قندیلیں ہر وقت روشن و منور رہتی ہوں اور ان کے چشمہ صافی سے آب زلال پی کر لوگ جوق در جوق سیراب ہوتے ہوں تو اس ماحول میں آنکھیں کھولنے والا بچہ کتنا خوش نصیب ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ "ابن العالم نصف العالم” زبان زد خاص و عام ہے۔ جب چاند سا یہ بچہ بسم اللہ کی عمر کو پہنچا، تب گھر ہی مکتب تھا، اپنے تمام ہم سن افراد میں ان کی ممتاز حیثیت کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی، پیشین گوئیاں کرنے والے سمجھ گئے تھے کہ یہ بچہ مستقبل قریب میں جا کر اپنی شخصیت کا لوہا منوانے والا ہے، جس کے دوست و دشمن سبھی مداح ہوں گے۔ سکول کے دورانیئے میں بھی ہمیشہ پہلی پوزیشن ان کی تقدیر کا حصہ تھا، باپ بھی اندر سے ان کے مستقبل کے حوالے سے ہمیشہ نہال رہتے تھے، جس باپ نے پورے معاشرے کے سدھارنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہو، ان کے لئے اپنے لخت جگر کی بہترین تربیت کرنا کوئی نئی بات نہ تھی۔
