آغا سید علی موسوی حسین آبادی/تحریر : سید مبشر عباس موسوی 

ولادت و حسب و نسب 

سید علی موسوی ۱۹۲۸ عیسوی میں بلتستان کے گاؤں ڈورو میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد نے آپ کا نام سید علی رکھا جو بعد میں پورے پاکستان میں آغا علی موسوی کے نام سے مشہور ہوا۔

نسب : سید علی سیادت کے لحاظ سے موسوی / کاظمی ہیں ، آپ کے سلسلہ نسب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تک جا پہنچتا ہے ۔آپ کے والد کا نام سید حسن موسوی تھا۔ جن کا تعلق  کریس بلتستان کے سادات خاندان سے تھا ۔سید حسن کے والد سید نظام الدین موسوی تبلیغ کے سلسلے میں بلتستان کے مختلف علاقوں میں جایا کرتے تھے ۔ سید حسن  نے بھی اپنے والد کی سیرت پر چلتے ہوئے اس سلسلے کو جاری رکھا اور آپ تبلیغ کے سلسلے میں ہی ڈورو گئے اور وہیں مقیم ہوئے ۔اس لئے سید علی موسوی کی ولادت بھی ڈورو میں ہی ہوئی۔

مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی/تحریر: طاہر عبداللہ

مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی

آپ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور تحریک جعفریہ کے بانی علماء میں سے تھے، جبکہ امامیہ آرگنائزیشن، وفاق علماء شیعہ پاکستان اور دیگر قومی تنظیموں کو محسنِ ملت کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ نے قائدینِ ملتِ جعفریہ مفتی جعفر حسین مرحوم، علامہ شہید عارف حسین الحسینی اور علامہ سید ساجد علی نقوی کے اِنتخاب میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کے نامور، ممتاز اور سرفراز شاگردوں میں سے آیت اللہ حافظ بشیر حسین نجفی وہ قابلِ قدر شخصیت ہیں، جو عراق میں مرجع اور مجتہد کی پوزیشن پر فائز ہیں۔ آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی وہ معزز شخصیت اور عظیم ہستی ہیں، جو آپ کی وفات سے لے کر اب تک جامعۃ المنتظر لاہور کے پرنسپل آرہے ہیں۔ مفسر قرآن اور اسوہ سکول سسٹم کے بانی شیخ محسن علی نجفی بھی آپ مرحوم کے عظیم شاگردوں میں سے ایک ہیں اور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

حکمرانو، احتیاط راہ نجات ہے/ تحریر محمد حسن جمالی 

 احتیاطی تدبیر ہر مشکل کو آسان بنادیتی ہےـ ہماری سیاسی ،اقتصادی، ثقافتی، فردی اور اجتماعی زندگی کے اکثر مشکلات ومسائل عدم احتیاط کی پیداوار ہوتے ہیں، جیسے بہت سارے لوگ احتیاط کا دامن چھوڑنے کے سبب جسمی و روحی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں، ان پر کینسر جیسا خطرناک جان لیوا مرض لاحق ہوجاتا ہے ،اسی طرح کھبی ملک کے حکام اور ذمہ داروں کی بے احتیاطی کے باعث ناقابل جبران خسارہ قوم کے حصے میں آتا ہے ،اسی لئے عقلمند لوگ اپنی زندگی کے تمام ادوار میں احتیاط کو بڑی سنجیدگی سے اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ وہ اس حقیقت پر باور قلبی رکھتے ہیں کہ احتیاط راہ نجات ہےـ