اربعین حسینی،تہذیب تشیع کا عملی نمونہ

میرا مولا حسین(علیہ السلام )سے منسوب ہر چیز نرالی اور ہر کام منفرد ہے ۔یہاں سے ہمیں امام حسین(علیہ السلام) کی الہی اور ملکوتی شخصیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ وہ ہے کہ جس کا تذکرہ، موجب سکون اور جس کی یاد،باعث رشد اور حس نام دلوں کا چراغ ہے ۔ہے کوئی جس کی شخصیت زبان رسالت چوس چوس کر بنی ہو،جس کے لئے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سواری بنیں،جس کی خاطر رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کبھی خطبے کو چھوڑے تو کبھی سجدے کو طول دیں۔کہیں "حسین منی و انا من الحسین "کہہ کر ایک روح دو قالب اور جدائی ناپذیر ہونےکا اعلان فرمائے ۔یہ سوار دوش رسالت حسین ابن علی(علیہما السلام )ہیں جو چودہ سو صدیوں سے دلوں پر حکومت کررہےہیں ۔
جو چیز اسے منسوب ہوجائے آلہی رنگ و بو اس میں آجائے اور وہ صبغہ اللہ کا مصداق بن جاتا ہے ۔
امام حسین (علیہ السلام) کا عاشورا بھی منفرد ہے تو آپ (علیہ السلام) کا چھلم بھی بے نظیر ۔
چھلم امام حسین (علیہ السلام )در اصل ظہور کی طرف حرکت ہے۔چھلم کے دن دنیا بھر سے کروڑوں عاشقان حسینی کربلا جمع ہو کر در اصل زمانے کے حسین فرزند زہرا امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ شریف) سے تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم آپ کو اب تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔چھلم ظہور ہی کی ایک کڑی ہے ۔اسی لئے اماموں کی طرف سے چھلم کو کربلا میں ہی مانانے اور زندہ رکھنے کی تاکید ہوئی ہے تاکہ لوگ اس معجزے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔