تازہ ترین

بارڈرہلاکتیں:‌’مسائل کےحل کیلئے پاکستان، ایران کو مل کرکام کرنا ہوگا’

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم ممالک کے اتحاد پر یقین رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ پاک ایران سرحد کے نزدیک دہشت گرد حملے میں 10 ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت کے بعد دو طرفہ بات چیت کے لیے دورہ پاکستان […]

شئیر
25 بازدید
مطالب کا کوڈ: 2201

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم ممالک کے اتحاد پر یقین رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاص اہمیت دیتا ہے۔

پاک ایران سرحد کے نزدیک دہشت گرد حملے میں 10 ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت کے بعد دو طرفہ بات چیت کے لیے دورہ پاکستان پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔

ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ‘ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، جبکہ مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد پر یقین رکھتا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کو امت مسلمہ کو در پیش مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا اور دونوں ممالک کو بین الاقوامی امور پر اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ مذہب، تاریخ اور جغرافیائی لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں’۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط تعلقات کی راہ میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نہ صرف ہمارا ہمسایہ اور دوست بلکہ ایک برادر اسلامی ملک ہے اور ان دونوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 26 اپریل کو صوبہ بلوچستان میں سرحد کے قریب مسلح افراد اور ایرانی فورسز کی جھڑپ کے دوران 10 ایرانی سرحدی محافظ ہلاک ہوگئے تھے۔

جھڑپ کے بعد ایرانی پولیس کا کہنا تھا کہ محافظوں کو دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں کے ذریعے ہلاک کیا گیا اور اس کی ذمہ دار پاکستان حکومت ہے۔

دوسری جانب ایرانی عسکریت پسند گروپ جیش العدل نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جو گذشتہ کچھ سالوں سے سیستان اور بلوچستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں متعدد حملے کرچکی ہے۔

بعد ازاں ہفتہ (29 اپریل) کو ایرانی صدر حسن روحانی نے گارڈز کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف کو احتجاجی خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس دہشت گرد حملے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے سزا دی جائے گی’۔

اس سے قبل 28 اپریل کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایران میں پاکستان کے سفیر آصف علی خان درانی کو طلب کرکے پاکستانی سرحد کے قریب جھڑپ میں ایران کے 10 سرحدی محافظوں کی ہلاکت پر احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

تہران میں ہونے والی ملاقات میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستانی سفیر پر زور دیا تھا کہ پاکستان مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

این مطلب بدون برچسب می باشد.

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *