تازہ ترین

مذہبی رسومات کو محدود کرنا غیر آئینی ہے،وفاق المدارس الشیعہ

وفاق المدارس الشیعہ کی ملک بھر کے بزرگ علماء پر مشتمل ’’مجلس اعلٰی‘‘ و مرکزی کابینہ کے آج جامعہ المنتظر میں منعقدہ اجلاس میں یوم پاکستان کو تحفظ پاکستان کی تجدید قرار دیا گیا۔

اشـتراک گذاری
24 مارس 2014
27 بازدید
کد مطلب: 110

آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں جامعہ الکوثر اسلام آباد کے سربراہ علامہ شیخ محسن علی نجفی، شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی، جامعہ المنتظر کے مہتمم اعلٰی علامہ سید نیاز حسین نقوی، وفاق المدارس الشیعہ کے جنرل سیکرٹری علامہ محمد افضل حیدری، کراچی سے علامہ علی ناصر مہدوی، علامہ سید فیاض حسین نقوی، میر پور خاص سے مولانا محسن مہدوی، کوئٹہ سے مولانا جمعہ اسدی، ڈیرہ اسماعیل خان سے علامہ محمد رمضان توقیر و دیگر علماء نے شرکت کی۔

اجلاس میں حکومت کی نیشنل سکیورٹی پالیسی میں مدارس سے متعلق بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ گذشتہ دنوں ملتان میں منعقدہ تحفظ مدارس دینیہ کنونشن کے اعلامیہ میں ذکر شدہ بعض مسائل کو غیر ضروری اور طے شدہ قرار دیا گیا۔ مجلس اعلٰی نے قرار دیا کہ مذہبی رسومات وغیرہ کا مذکورہ کنونشن کے اہداف سے کوئی ربط نہیں اور نہ ہی یہ مدارس کے فورم کے مسائل ہیں۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں، اس ضمن کئی قوانین موجود ہیں، جن پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ فرقہ وارنہ مسائل ہوں یا دہشتگردی، اصل ضرورت قانون پر عمل درآمد کی ہے۔ ملک میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ قانون موجود ہے مگر عمل نہیں ہو رہا۔ مذہبی رسومات کو محدود کرنے کا مطالبہ اسلامی، ملکی و سماجی راویات کے منافی اور ناقابل قبول ہے۔ اجلاس میں دہشتگردی کے تازہ سانحات کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

این مطلب بدون برچسب می باشد.

نوشته های مشابه

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *