تازہ ترین

تکفیریوں کی شام میں شکست پوری دنیا میں تکفیریت کی شکست ہے، سید حسن نصراللہ

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے ہفتے کی رات جنوبی لبنان کے علاقے جبل عامل میں ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہے اور دشمن کو حزب اللہ کی طاقت کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہے،

اشـتراک گذاری
30 مارس 2014
21 بازدید
کد مطلب: 224

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے شام میں تکفیریوں کے ساتھ حزب اللہ کے نبرد آزما ہونے کے معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حزب اللہ شام میں تکفیریوں کا مقابلہ نہ کرتی تو تکفیری نہ صرف لبنان بلکہ خطے کی دیگر مسلم ریاستوں کو جو مزاحمت کی حمایت کرتی ہیں، کمزور کرنے کی کوشش کرتے۔ شام میں تکفیریوں کی شکست صرف شام میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں تکفیریوں کے بانی اور حامیوں کی بدترین شکست ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ نواسی رسول اکرم (ص) سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے حرم مقدس کا دفاع ہماری شرعی ذمہ داری بنتی ہے اور ہم اس ذمہ داری سے ذرہ برابر بھی کوتاہی نہیں کرسکتے، ان کا کہنا تھا کہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا حرم مقدس دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے مقدس مقام ہے اور مسلم امہ کے مقدسات کی حفاظت کرنا حزب اللہ کے لئے باعث فخر ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے صیہونی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکا ہے اور حزب اللہ کی جو طاقت اسرائیل نے جولائی سنہ2006 کی جنگ میں دیکھی تھی، آج حزب اللہ کی طاقت اس سے کئی گنا زیادہ ہوچکی ہے اور دشمن کو یہ اندازہ بھی نہیں ہے کہ حزب اللہ کس کس محاذ پر دشمن کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے لبنان میں کی جانے والی اندرونی سازشوں کا جواب دیتے ہوئے اور مائیکل سلیمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سونا ہمیشہ سونا ہوتا ہے اور اگر کوئی ہم سے کہے کہ یہ سونا نہیں بلکہ لکڑی ہے تو ہم یقین نہیں کرسکتے، لبنانی سونے کو لکڑی سے تبدیل نہیں ہونے دیں گے کیونکہ لبنانی ملت نے اسرائیل کو کفن بند کر دیا ہے اور مستقبل میں بھی اگر کسی نے لبنان پر بری نگاہ کرنے کی کوشش کی تو لبنان اسرائیل کے فوجیوں کا قبرستان بن کر سامنے آئے گا۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر تکفیری عنصر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے بعض افراد تکفیری خطرے کو خطرہ قرار نہیں دیتے، تاہم میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ آخر لبنان کے علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں پھر کون ملوث ہے؟ اگر آج ہم نے تکفیریوں کا خاتمہ نہ کیا تو کل یہ تکفیری شام سے نکل کر سب سے پہلے لبنان پر قابض ہونے کی کوشش کریں گے اور پھر اسی طرح دوسرے ممالک پر، شام میں تکفیریوں کی بدترین شکست دراصل ان کے حامیوں اور ساتھی ممالک کے منہ پر طمانچے کی مترادف ہے اور اس سب کا سہرا مزاحمت کو جاتا ہے۔

این مطلب بدون برچسب می باشد.

نوشته های مشابه

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *